کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، ورثاء میں بیوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں موجود ہیں، دادا دادی کا پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا، معلوم یہ کرنا ہے کہ والد مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
صورت مسئولہ میں والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہرواجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر (72) حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کونو (9) حصے ،جبکہ ہر بیٹے کوچودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو سات (7)حصہ دیا جائے .
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0