احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم

فتوی نمبر :
88958
| تاریخ :
2025-11-18
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یار حسن خان کی فیملی جس میں 4بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں اور ایک بیوہ ۔
(1)حسن خان، 2: امان اللہ ، فیض اللہ ، عزیز اللہ، اور چاربیٹیاں بخت اقبال، بخت افسر، بی بی رحیمہ اور رورسیہ۔
سنہ 1990 میں والد” یار حسن“ کا انتقال ہوا تھا ، اور یہ چار بیٹے ایک گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ اور بیٹیاں چاروں شادی شدہ ہیں ان کا کھانا پینا سارااکھٹا ہے، اور چاروں بیٹے محنت ومزدوری کرکے گھر چلاتے ہیں اور نفع نقصان ایک ہے ۔
(2001) میں فیض اللہ کا انتقال ہو ا، اور فیض اللہ کے چار بیٹیاں ایک بیٹا جوکہ اپنی ماں اور چچاؤں کے ساتھ اسی گھر میں رہتے ہیں وقت گزرتا گیا اس کے ساتھ ساتھ بڑے بھائی(حسن خان) کے بچے جوان ہو گئے اور وہ اپنے حصے کی ڈیمانڈ کرنے لگا جس کے لیے گاؤں والا گھر فروخت کر کے بڑے بھائی کو حصہ دے کر علیحدہ کر دیا ،باقی جو کراچی والا گھر ہے تین بھائیوں کے حصے میں آگیا،پھر سن (2011) میں والدہ کا انتقال کرگئی ۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا ،اور کاروبار شروع ہوا ،پولٹری فارم کا کاروبار شروع ہوا،اور چلتا گیا اسی اثنا میں ان دو بھائیوں نے اپنے لیے اسی کاروبار سے ایک نیا گھر خریدا اور سواری کے لیے گاڑی وغیرہ خریدی اس عرصے میں ان دو بھائیوں نے اپنی طرف سے کوشش کی تاکہ اپنے بھتیجے کے لیے کوئی کاروبار شروع کر سکے اور مختلف مواقع پر اپنے بھتیجے کو سمجھا کر رقم بھی دی لیکن ان کا بھتیجا نکما اور بیکار نکلا، کاروبار میں نقصان بتا کر سار ا رقم ختم کردیا ۔ یہ کاروبار مشترکہ رقم سے نہیں تھا، بلکہ ہمارا ذاتی اور انفرادی تھا۔
اب شریعت کی رو سے ہم اپنی اس بھابھی اور اس کے بھتیجے کے ساتھ کیا سلوک کریں؟ جب کہ بھتیجیاں جو تھی وہ شادی شدہ ہو گئی ہیں۔ اور یہ تفصیل بتا دیں کہ مرحوم والد کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں جب مرحوم فیض اللہ کا انتقال اپنے والد کے انتقال کے بعد ہوا ہے تو وہ اپنی زندگی میں اپنے دیگر بہن بھائیوں کی طرح اپنے حصہ شرعیہ کا حقدار بن چکا تھا جو اب اس کےانتقال کے بعد اس کے شرعی ورثاء (بیوہ ، بیٹا اور بیٹیوں) کے درمیان تقسیم ہوگا۔
جبکہ سائل کے بھائی (حسن خان) کووالد مرحوم کے تقسی م ترکہ سے قبل ان کے مطالبہ پر گاؤں والا مکان فروخت کرکے اس وقت کے مارکیٹ ویلیو کے حساب سے والد مرحوم کے ترکہ سے ان کا حصہ دے دیا گیا تو اب دیگر ورثاء میں والد مرحوم کا ترکہ تقسیم کر تے وقت مذکور بھائی (حسن خان) کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا، البتہ مرحومہ والدہ کے انتقال کی وجہ سے اس کے ورثاء میں چونکہ (حسن خان) بھی بحثیت وارث شریک ہے، لہذا وہ اس مکان میں اپنے مرحومہ والدہ کے حصہ میں سے بطور وارث اپنے حصہ شرعی کے مطابق حصہ دار ہوگا۔
جبکہ سائل اور اس کے بھائی نے اپنی ذاتی رقم سے جو کاروبار شروع کیا ہے اور اس کاروبار سے انہوں نے اپنے لیے نیا گھر یا گاڑی وغیرہ خریدی تو وہ انکی ذاتی ملکیت کہلائے گی اس میں دوسرے ورثاء حصہ دار نہ ہوں گے ۔ جبکہ اس دوران ان بھائیوں نے مختلف مواقع پر اپنے کاروبار سے جو رقم اپنے بھتیجے کو کاروبار کرنے کیلئے دی تھی اگر قرض کی صراحت کے ساتھ نہ دی گئی ہو تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان شمارہوگاجو اس بھتیجے کے حصہ میراث سے منہا نہ ہوگی۔ تاہم اگر وہ رقم دیتے وقت قرض کی صراحت کی تھی تو ایسی صورت میں مذکور بھتیجے سے اس قرض کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدمرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہو تو وہ ادا کریں اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائزوصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کےکل انتیس ہزار پانچ سو بیس(29520) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو چھ ہزار بہتر(6072) حصے،بڑے بیٹے حسن خان کو ایک ہزار بتیس(1032)حصے، چاروں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو تین ہزار چھتیس (3036)حصے ، مرحوم کی بہو( مرحوم فیض اللہ کی بیوہ) کو چھ سو تیس (630) اور پوتے کو گیارہ سو نوے (1190) اور پوتیوں میں سے ہر ایک کو پانچ سو پچانوے(595) حصے دیے جائیں .

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر (ولو أخرجوا واحدا ) من الورثة ( فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ماأعطوه من مالهم غير الميراث وإن كان) المعطى ( مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم) يقسم بينهم الخ۔
وفی الشامیۃ تحت قوله ( على السواء ) أفاد أن أحد الورثة إذا صالح البعض دون الباقي يصح وتكون حصته له فقط كذا لو صالح الموصى له كما في الأنقروي، سائحانی (الی قولہ) (قولہ من مالهم ) أي وقد استووا فيه، ولا يظهر عند التفاوت (قوله فعلى قدر ميراثهم) الخ (فصل فی التخارج، کتاب الصلح، ج: 5، ص: 644، ط: سعید)۔
وفی العقود الدریّۃ: وفی العمادیۃ من أحکام السفل و العلو المتبرع لا یرجع بما تبرع علی غیرہ کما لو قضی دین غیرہ بغیر أمرہ الخ۔ ( کتاب المداینۃ، ج: 2، ص: 248، ط: مکتبہ حقانیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88958کی تصدیق کریں
0     58
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات