میں مسماۃ بیوہ ہوں۔ میرے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ میرے خاوند کےترکہ میں ایک عدد مکان ہے جسے فروخت کرنے پر مجھے اسی لاکھ روپے وصول ہوں گے۔ مجھے پوچھنا یہ ہے کہ ان اسی لاکھ روپے کی رقم میں میرا کتنا حصہ ہوگا؟ اور میرے دو بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کا کتنا حصہ بنے گا؟ براہِ مہربانی ہر ایک کا حصہ الگ الگ تحریر کردیں ، تاکہ مجھے تقسیم میں آسانی ہو۔
صورتِ مسؤلہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں، جس میں سے مرحوم کی بیوہ کونو(9) حصے، ہر ایک بیٹے کو چودہ (14)حصے،اور ہر ایک بیٹی کو سات(7)حصے دیےجائیں.
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0