کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، بوقتِ انتقال ورثاء میں تین بیٹے اور سات بیٹیاں موجود تھیں ،بیٹوں میں سے ایک بیٹا مسمی سلیم حیات چونکہ شروع سے مختلف امراض میں مبتلا تھا تو والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے ایک اس بیٹے کو ہبہ کیا ہے اور تحریر ی طور پر مکمل اختیارات بھی دیے ہیں ۔اب معلوم کرنا ہے کہ والد مرحوم کے باقی جائیداد کے علاوہ اس مکان میں بھی دیگر ورثاء کا حق بنتا ہے کہ نہیں ؟ اگر بنتا ہے تو کتنا ؟اور والد مرحوم کا کل ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟ نیز والدہ کاانتقال والد سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنےبیٹے مسمی سلیم حیات کو مذکور مکان صرف کاغذات میں نام نہ کیاہو، بلکہ باقاعدہ مالکانہ حقوق اورقبضہ وتصرف کے ساتھ دیدیا ہو بایں طورکہ اگروہ مذکورمکان ان کی زندگی میں بیچنا چاہتا تو والد مرحوم کی جانب سے اس پرکوئی پابندی نہیں تھی تو وہ اس کے لئے والد کی طرف سے ہبہ اور عطیہ تھا، جس پرقبضہ وتصرف کاحق حاصل ہوجانے کے بعدوہ اس کا مالک بن چکا ہے،چنانچہ مذکورمکان اس بھائی کی ذاتی ملکیت شمارہوگا،ترکہ شمار نہ ہوگا اوروہ اس ہبہ و گفٹ کی وجہ سے والد مرحوم کے دیگر ترکہ میں اپنے حصۂ میراث سےبھی محروم نہ ہو گا، بلکہ بدستوراپنے حصہ شرعی کے بقدر دیگر ورثاء کے ساتھ شریک رہے گا ۔
اس کے بعدواضح ہوکہ سائل کےوالد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل تیرہ (13) حصے بنائے جائیں، جن میں سے تینوں بیٹوں میں سے ہرایک کو دو(2) حصے، جبکہ ساتوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک(1) حصہ دیاجائےگا
کما فی الدر المختار: (و تتم)الھبۃ بالقبض الکامل(ولو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ)الخ (کتاب الھبۃ، ج: 5،ص: 690، ط: سعید)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0