درخواست فتویٰ ! میں محمد اصغر یہ فتوہ لینا چاہتا ہوں میرے تین بیٹے ہیں محمد اور یس ،محمد عمران، محمد عامر ،محمد عامر نشے کرتے ہوئے فوت ہو گیا۔ بڑا بیٹا محمد ادریس وہ کالا جادو کرتا ہے، میں نے اپنے بڑے بیٹے کو جائیداد میں سے حصہ دے دیا اور میری چار بیٹیاں بھی ہیں انکو حصہ نہیں دیا ہے، میرا مکان تھا جو میں نے اپنے بڑے بیٹے کے نام کر دیا تھا جو وہ فروخت کر کے کھا گیا ہے اس کے بیٹے اسکو پیسے دیتے ہیں، وہ مجھے پیسے نہیں دیتا نہ ہی مجھے خر چادیتا ہے، میں بھیک مانگ کر گزارا کرتا ہوں میں اسکے گھر میں سوجاتا ہوں، تو مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے ، وہ ایک آوارہ عورت کو لیکر گھومتا ہے ،اب میں بیٹے کو حصہ کہا سے دو کیونکہ میرے پاس خود کھانے کے پیسے نہیں ہے مجھے کوئی ایسا فتوہ دیجئے جو میں عدالت میں دو ں اور مجھے میرے مکان جو اس نے فروخت کیا ہے،اس کی قیمت 18 لاکھ روپے ہے مجھے مل جائے ۔ مجھے کہتا ہے کہ باپ کیا چیز ہے بتاؤ۔
(نوٹ) سائل کے بیٹے ( محمد عمران) نے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا تھا.
واضح ہوکہ ہبہ کے تام ہونے کے لیے واہب کی طرف سے موہوب لہ کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ اور حق ِتصرف کے ساتھ شیئ موہوبہ حوالہ کرنا ضروری ہے ، محض کسی کے نام کرنے سے وہ شخص اس کا مالک نہیں بنتا ، لہذا سائل نے بھی اگر اپنا مذکور مکان اس بیٹے کو ہبہ کرکے اسے مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ بھی دیدیا ہو جس کے بعد انہوں نے اپنی مرضی سے اسے فروخت کرکے رقم حاصل کرلی ہو تو اب سائل کے لئے اس مکان یا اس کی قیمت کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ، البتہ سائل کے بڑے بیٹے ( محمد ادریس ) کا سائل کواپنے گھر میں رہائش نہ دینا ، اور اس پر اسے قتل کی دھمکی دینا، اسی طرح دوسرے بیٹے (محمد عمران) کا والد کی مالی حالت معلوم ہونے کے باوجود اسے حصہ دینے کیلئے فورس اور ٹارچر کرنا انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے ،ان دونوں پر لازم ہے کہ وہ فورا اپنے اس طرز عمل پر نظر ثانی کرتے ہوئے والد سے دست بستہ معافی مانگےاور اب تک کے گناہ کے ارتکاب پر اللہ کے حضور صدق دل سے توبہ و استغفار کرے ،اور آئندہ کے لیے اس سے مکمل اجتناب کرے ہوئےاپنے والد کا سہارا بن کر ان کی خدمت کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھے۔
کماقال تعالی : و قضی ربک ألا تعبدوا إلا إیاہ و بالوایدین إحساناً إما یبلغن عندک الکبر أحدھما أو کلاھما فلا تقل لھما أف و لا تنھرھما و قل لھما قولاً کریماً ألآیۃ 23 ، سورۃ بنی إسرئیل )۔
و فی أحکام القرآن للجصاص :و قضی ربک ألا تعبدو إلا إیاہ الخ و قضی ربک أمر ربک و أمر بالوالدین إحسانًا و المعنی واحد لأن الوصیۃ أمر و قد أوصی اللہ تعالی ببر الوالد و الإحسان لھما فی غیر موضع من کتابہ ( إلی قولہ ) فأمر بمصاحبۃ الوالدین المشرکن بالمعروف مع النھی عن طاعتھما فی الشرک لأنہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق(الی قولہ) (و لا تنھرھما ) معناہ لا تزجرھما علی وجہ الإستخفاف بھما و الاغلاظ لھما الخ (ج: 3 ، ص: 196 ، ط: سہیل اکیڈمی)۔
و فی صحیح البخاری: عن عبدالرحمان بن أبی بکرۃ عن أبیہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ألآ أنبئکم باکبر الکبائر قلنا بلی یا رسول اللہ فقال ألإشراک باللہ و عقوق الوالدین الخ ( باب عقوق الوالدین ج : 4 ،ص :2666 ،ط: بشری )۔
و فی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالإیجاب و القبول و تتم باالقبض الخ ( ج: 4، ص: 344، ط: ادارۃ القران و العلوم الإسلامیۃ )۔
وفی الدر: (يعبر به عن الكل كوهبت لك فرجها وجعلته لك) لأن اللام للتمليك بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة وكذا هي لك حلال إلا أن يكون قبله كلام يفيد الهبة الخ۔کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 688، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2