جناب عالی! مؤدبانہ گزارش ہے کہ عرض گزار ہوں کہ میرے بھائی مسمی محمد زید کا انتقال ہمارے والد کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، اور وہ شادی شدہ تھے، اب ہمارے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ لہذا ہمیں رہنمائی دی جائے اور فتوی دیا جائے کہ میرے بھتیجوں یعنی مرحوم بھائی کے وارثین کا میرے والد کی جائیداد میں حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ مہربانی فرما کر فتوی جاری فرماکر مشکور فرمائیں۔آپ جناب کی عین نوازش ہوگی۔
واضح ہو کہ والد کی زندگی میں جس بیٹے /بیٹی کا انتقال ہو جائے، تو اس کے ورثاء (بیوہ اولاد) کا والد کی دیگر اولاد (بیٹوں) کی موجودگی میں دادا کی وراثت میں شرعا کوئی حصہ نہیں بنتا، اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے مذکور بیٹے ”مسمی محمد زید" کا انتقال اگر اپنے والد مرحوم کی زندگی میں ہی ہو گیا ہو ،تو اس کی اولاد کا مرحوم (دادا) کے ترکہ میں سے شرعاً کوئی حصہ نہیں، البتہ اگر مرحوم کے ورثاء اپنی مرضی سے انہیں بھی کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار حاصل ہے، اور باعث اجر و ثواب بھی ہے، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0