محترم مفتی صاحب !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مجھے وراثت کے معاملے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ نیچے پوری صور ت حال اور چند سوالات عرض ہیں، صور تِ حال یہ ہے کہ میرے داداکے انتقال کے بعد ان کے ترکے میں ایک گھر اور ایک دکان شامل ہے۔ دادا کی وفات کے بعد سے اب تک وہی گھر اور دکان سب کے مشترکہ استعمال میں ہیں، ہم سب ایک جوائنٹ فیملی کی صورت میں رہ رہے ہیں۔ داداکے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، سب شادی شدہ ہیں اور سب کے بچے ہیں۔ جو گھر ہے، اس میں چاروں بھائی اپنے اپنے اہلِ خانہ کےساتھ ایک ہی جگہ رہتے ہیں۔دکان پر بھی چاروں رہتے ہیں،ا سی سے گھر کا خرچ چلتا ہے،گھر اور دکان دونوں کی دیکھ بھال بڑے بھائی کے ذمے ہیں،بھائی مل کر کام کرتے ہیں ۔ تینوں بہنیں اپنی شادی شدہ زندگی گزار رہی ہیں اور الگ گھروں میں رہتی ہیں۔ تینوں بہنوں نے فی الحال اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کیا، اوران کے بقول انہیں اس وقت اپنے حصے میں سے کچھ نہیں چاہیے۔
سوالات ۔کیا سب کے حصے جلد از جلد اداکر دینا شرعاً لازم یامستحب ہے یا جب تک سب باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہیں تب تک اسی حالت کو برقرار رکھنا زیادہ مناسب ہوگا؟ ۔ اگر وراثت تقسیم کی جائے تو گھر اور دکان فروخت کرنی پڑے گی، جس کی رقم سے سب کے لیے الگ الگ گھر یا کاروبار شروع کرنامشکل ہوگا ،ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟ ۔ اگر آگے چل کر ذمہ داریوں یا آمدنی کے بٹوارے پر اختلاف یا جھگڑے کا اندیشہ ہوتو ایسی صورت میں کیا کرنا بہترہے؟ ۔ اور اگر آپس میں کوئی اختلاف یا فسادکا خدشہ نہ ہوتو کیا پھر بھی سب کو الگ الگ حصہ دے دینا بہتر ہے،یا اسی طرح ساتھ رہنا زیادہ مناسب ہے؟ براہِ کرم ان تمام باتوں میں شرعی طور پر درست اور بہتر راستہ بتائیں، تاکہ سب کے حقوق بھی قائم رہیں اور آئندہ کسی قسم کے اختلاف سے بچا جا سکے۔ جزاکم اللہ ۔
واضح ہو کہ وراثت کی تقسیم جتنی جلدی ممکن ہو ، اتنی جلدی تقسیم کرکے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیئے ،تاکہ بعد میں کسی قسم کی بدمزگی ، آپس کے اختلافات ، لڑائی جھگڑے اور کسی کی حق تلفی کی نوبت نہ آئے،
تاہم اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور سب باہمی رضامندی سےاس بات پرمتفق ہوں کہ مرحوم کاترکہ فی الحال تقسیم نہ کیاجائے توایسی صورت میں تاخیر کی بھی گنجائش ہے اورایساکرنےسےاگرچہ وہ گناہ گار بھی نہ ہوں گے، مگر یہ رضامندی ہر وقت قابلِ رجوع رہے گی، چنانچہ اگرکوئی وارث تقسیمِ جائیداد کا یا اپنے حق کا مطالبہ کرے تواس کی بات مانتے ہوئے جائیدادمیں سے اس وارث کا شرعی حق دینا دیگر ورثاء پر لازم ہوگا ۔
کمافی الفتاوى الهندية: وأما سببها فطلب الشركاء أو بعضهم الانتفاع بملكه على وجه الخصوص كذا في التبيين الخ(بیان کیفیۃ القسمۃ،ج:5،ص:204،ط:ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: (و قسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة و بطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) و في الخانية : يقسم بطلب كل و عليه الفتوى ، لكن المتون على الأول فعليها العول (و إن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض الخ(کتاب القسمۃ،ج:6،ص:260،ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2