السلام علیکم ! مؤدبانہ عرض ہے کہ میرا نام زید ہے، میں پچھلے ایک سال سے گلستانِ جوہر میں رہائش پذیر ہوں، اس سے پہلے میں میٹروول سائٹ ایریا میں رہتا تھا، میٹروول کا مکان چونکہ والدہ کے نام تھا، ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے وہ مکان والدہ نے فروخت کر دیا ہے، مکان بیچنے کے بعد انہوں نے وہ پیسے ہم تین بہن اور دو بھائیوں میں تقسیم کر دیے، اس حصہ میں میری والدہ کا بھی حصہ تھا، والدہ چونکہ بیمار تھی، صحیح سے اٹھ، بیٹھ نہیں سکتی تھی، والدہ خود اپنی مرضی سے نارتھ کراچی میں چھوٹی بہن کے پاس رہتی تھی، انہوں نے اپنا سارا پیسہ اور زیور میری سب سے چھوٹی بہن کو دے دیا، جو کہ اورنگی ٹاؤن میں رہتی ہیں، چھوٹی بہن نے امی کے ساتھ بینک میں جوائنٹ اکاؤنٹ کھول لیا، میری والدہ کو جتنے پیسے چاہیے ہوتے، وہ چھوٹی بہن سے لے لیتی، مفتی صاحب ! میری والدہ کا آٹھ مہینے پہلے انتقال ہو گیا ہے، ان کے پاس جتنے پیسے (26 لاکھ تقریباً) اور زیور تھے، وہ چھوٹی بہن کے پاس ہے۔مفتی صاحب ! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میری والدہ کے انتقال کے بعد ان پیسوں اور زیور پر ہم بہن بھائی کا حق ہے کہ نہیں؟ ان پیسوں کے بارے میں اپنی چھوٹی بہن سے بات کر سکتا ہوں کہ نہیں؟ میں اپنی بہن کے پاس گیا، اور ان کو بتایا کہ امی کے انتقال کے بعد وہ پیسے آپس میں تقسیم کر دو اور وہ یہ بات سن کر ناراض ہو گئی اور بولی کہ جاؤ جس کو کہنا ہے کہو اور پولیس کو بتانا ہے بتاؤ ، اور مجھے گھر سے بھگا دیا۔ مفتی صاحب ! مہربانی فرما کر مجھے صحیح راستہ بتائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ نے مذکور رقم اور سونا محض امانتاً چھوٹی بیٹی کے پاس رکھا ہو اور بوقتِ ضرورت اس سے لے کر اپنی ضروریات پر خرچ کرتی رہی ہوں تو اس صورت میں ان کے انتقال کے وقت باقی ماندہ رقم اور سونا ان کا ترکہ شمار ہوگا، جو ان کے دیگر ترکہ کے ساتھ شامل کر کے تمام ورثاء میں بقدرِ حصص شرعی تقسیم کیا جائے، جس کی تقسیم کے مطالبہ کا مرحومہ کے تمام ورثاء کو حق حاصل ہے، لہذا سائل کی بہن کا تنہا اس رقم اور زیور کو اپنے قبضہ میں رکھنا اور مطالبہ کرنے والے کو دھمکانا اور اس کی تقسیم سے انکار کرنا انتہائی غلط اور نامناسب حرکت کے ساتھ ساتھ شرعاً غصب کے زمرہ میں آنے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0