السلام علیکم ! میرا نام مسماۃ۔۔۔ہے، میرے والد کا نام ۔۔۔ہے، ہم چار بہنیں ہیں ،جس میں دو کی وفات ہوگئی ہے، دو حیات ہیں،مئی2013 میں میری ایک بہن کی وفات ہوئی، انکی دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، جنوری 2018 میں میرے والد صاحب کی وفات ہوئی، مئی 2019 میں میری ایک اور بہن کی وفات ہوئی انکی ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں، ستمبر 2019 میں میری والدہ کی وفات ہوئی،والدہ کے والدین فوت ہوچکے ہیں،جبکہ والدہ کے ورثاء میں مذکورہ بیٹیوں سمیت دو بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں، والدہ نے اپنے زیورات وغیرہ بیچ کر ایک مکان خریدا تھا،اور وہ ہی اس کی آخر تک مالک تھی،لیکن والدہ نے اس کووالد کی ملکیت میں دیے بغیر محض اس کے نام کیاتھا، اب وہ مکان فروخت ہو چکاہے، اس کی دو منزلہ تعمیر میں سات لاکھ بطور قرضہ لیا اس رقم کی ادائیگی کے بعد باقی تیس لاکھ روپے بچتے ہیں ،جس کی تقسیم درکار ہیں ، تقسیم کس طرح ہوگی ؟
واضح ہو کہ والد ین کی حیات میں اگر کسی اولاد کا انتقال ہوجائے ، تو اس کےورثاء کامرحوم کے والدین کے قریبی ورثاء (مثلاً بیٹوں،بھائیوں) کی موجودگی میں ان کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتااور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورفروخت شدہ مکان اگر واقعۃً سائلہ کےوالدہ نے اپنے زیورات وغیرہ بیچ کراسے خریدنے کے بعد اپنے شوہر کے فقط نام کیا ہو، باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ ان کے حوالہ نہ کیا ہوتو ایسی صورت میں مذکور گھر مرحومہ کی ملکیت تھی، اور اب فروخت ہونے کی صورت میں اس کی رقم سائلہ کی والدہ کا ترکہ ہی شمار ہوکراس کی وفات کے وقت موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق ( جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے) تقسیم ہوگی، اور والدہ کی حیات میں انتقال کرنے والے دونوں بیٹیوں کی اولاد (سائلہ کے بھانجے،بھانجیاں) اپنی اپنی والدۂ مرحومہ کے توسط سے اپنے نانی کے ترکہ میں حصۂ شرعیہ کے حقدار نہیں اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں،البتہ اگر سائلہ یا دیگر ورثاء اپنی مرضی سے بطورِ تعاون اور ان کی دل جوئی کی خاطر انہیں کچھ دینا چاہیں، تو انہیں اس کا بھی اختیار ہے،اور یہ ان کی طرف سے تبرع و احسان شمار ہوگا،مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
اس کےبعد واضح ہو کہ سائلہ کے والدۂ مرحومہ کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف، واجب الأداء قرض اور اگرکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ((1/3 کی حد تک وصیت پر عمل کرنے) کے بعد اگر مرحومہ کا ترکہ فقط تیس لاکھ (3000000)روپے ہی بچتاہو، اور مرحومہ کے ورثاء بھی یہی ہوں ، اس کے علاوہ کوئی اور وارث موجود نہ ہو، تو سوال میں ذکر کردہ رقم میں سے مرحومہ کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک دس لاکھ (1000000)روپے، اور مرحومہ کےدونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو دو لاکھ پچاسی ہزارسات سو چودہ (285714) روپے، جبکہ مرحومہ کےتینوں بہنوں میں سے ہر ایک کو ایک لاکھ بیالیس ہزارآٹھ ستاؤن (142857) روپے دیے جائیں۔
کما فی البحر الرائق: وأما بیان الوقت الذی یجری فیہ الإرث فنقول ھذا فصل اختلف المشائخ فیہ قال مشائخ العراق الارث یثبت فی آخر جزء من أجزاء حیاۃ المورث وقال مشائخ بلخ الارث یثبت بعد موت المورث إلخ(کتاب الفرایض، ج: 8، ص: 488، ط: ماجدیۃ )۔
وفی السراجی فی المیراث: العصبات النسبیۃ ثلاثۃ: عصبۃ بنفسہ، وعصبۃ بغیرہ وعصبۃ مع غیرہ، أما العصبۃ بنفسہ فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ إلی المیت أنثی وھم أربعۃ أصناف: جزء المیت، وأصلہ وجزء أبیہ وجزء جدہ الأقرب فالأقرب إلخ(باب العصبات، ص: 53۔54، ط: البشری)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0