میں پچھلے کچھ عرصے سے روحانی کمزوری محسوس کر رہا ہوں۔ جب نماز پڑھتا ہوں تو کبھی اللہ کی محبت کا احساس ہوتا ہے، اور کبھی عذابِ آخرت کا خوف دل میں غالب آ جاتا ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ عبادت محبت سے کرنی چاہئیے، اور بعض کہتے ہیں کہ خوفِ عذاب ضروری ہے۔ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ اصل عبادت کس جذبے سے ہونی چاہئیے؟
کسی بھی مسلمان بندے کا عذابِ خداوندی سے ڈرنا اور اس کی بخشش اور رحم کی امید رکھنا اس کی ایمان کی نشانی ہے، اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ایمان خوف اور امید کے درمیان ہوتا ہے، لہذا اللہ رب العزت کی کرم نوازی اور رحمت سے بالکل مایوس ہونا یا خوف خدا کو بالکل دل سے نکالنا دونوں امور شرعا ًدرست نہیں، بلکہ حدِ اعتدال میں دونوں کا پایا جانا ضروری ہے، لہذا نماز ادا کرتے وقت اصل دھیان اور توجہ تو اللہ رب العزت کی بڑائی اور مہربانی کی طرف ہونی چاہئیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر خوف پیدا ہو جائے تو یہ مطلوب اور مقصود ہے، لیکن اس کو اپنے اوپر اس قدر حاوی کرنا کہ اللہ رب العزت کی رحمت سے نا امیدی پیدا ہو جائے جائز نہیں بلکہ ممنوع ہے۔
کما فی تفسیر القرآن الکریم لابن القیم: ومن عبده بالحب والخوف والرجاء فهو مؤمن. وقد جمع تعالى هذه المقامات الثلاث بقوله: 17: 57 أولئك الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة أيهم أقرب، ويرجون رحمته ويخافون عذابه فابتغاء الوسيلة هو محبته الداعية إلى التقرب إليه. ثم ذكر بعدها الرجاء والخوف. فهذه طريق عباده وأوليائه الخ۔(سورة الأعراف (7) : آية 205،ص:260، ط:دار ومكتبة الهلال)۔
وفی مدارج السالکین: قال تعالى: {أولئك الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة أيهم أقرب ويرجون رحمته ويخافون عذابه} [الإسراء: 57]، فابتغاء الوسيلة إليه: طلب القرب منه بالعبودية والمحبة، فذكر مقامات الإيمان الثلاثة التي عليها بناؤه: الحب، والخوف، والرجاء. وقال تعالى: {من كان يرجو لقاء الله فإن أجل الله لآتٍ} [العنكبوت: 5]. وقال: {فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملًا صالحًا ولا يشرك بعبادة ربه أحدًا} [الكهف: 110] وفي «صحيح مسلم» عن جابرٍ - رضي الله عنه - قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قبل موته بثلاثٍ: «لايموتن أحدكم إلا وهو يحسن الظن بربه الخ۔ (منزلة البصيرة،حقيقة الرجاء،فصل منزلة الرجاء،ج: 2،ص: 36،ط:دار الكتاب العربي)۔