السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال ہے کہ جب قرآن و حدیث میں کثرت سے ذکر کرنے کا کہا گیا ہے تو پھر کسی شیخ و مرشد سے اجازت لینے کی ضرورت کیوں ہے، کون سے ذکر اذکار وظیفے کی اجازت لینے کی ضرورت ہے؟ اس بارے میں راہ نمائی کیجیے، مستند کتابوں یا مستند علماء اپنے بیان میں مختلف پریشانیاں دور کرنے کے لئے جو ذکر بتاتے ہیں، کیا وہ ذکر ہم بھی کر سکتے ہیں، ذیل میں جو ذکر ہے کیا یہ کر سکتے ہیں اور کتنی تعداد میں کرنا چاہئیے؟ کیا اس کے لئے بھی اجازت کی ضرورت ہے؟
”لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ،لَا حَوْلَ وَلَاقَوْةَ إلَّا بِاللهِ،سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ، استغفار اور درود شریف“
جو اذکار اور ادعیۂ ماثورہ قرآن پاک یا احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہیں اور جن مواقع پر پڑھنا ثابت ہے ان کے لئے کسی شیخ یا پیر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کو ان کے مواقع پر پڑھا جاسکتا ہے، البتہ جو اذکار شیخ اپنے مرید کی اصلاح کے لئے حسبِ احوال تلقین کرتے ہیں یا کوئی خاص ورد کسی خاص عمل کے لئے شیخ یا پیر تلقین کرتا ہے اس کے لئے اجازت لینا اور کمیت و کیفیت میں شیخ کی ہدایت پر عمل کرنا چا ہئیے، جبکہ وہ اذکار جو مستند کتابوں میں مذکور ہیں یا مستند علماء مختلف پریشانیوں سے نجات کے لئے بتاتے ہیں، وہ بھی کر سکتے ہیں، اور سوال میں مذکور اذکار (لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاللهِ، سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ، استغفار اور درود شریف) کو بغیر کسی پیر کی اجازت کے پڑھ سکتے ہیں اور اس کے لئے کوئی تعداد مذکور نہیں، بلکہ جب بھی وقت ملے حسبِ موقع ان اذکار کو پڑھا جا سکتا ہے۔
كمافي صحيح البخاري: عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "كلمتان حبيبتان إلى الرحمٰن خفیفتان على اللسان ثقيلتان فی الميزان: سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم ۔ (9/163)
وفي المعجم الكبير للطبرإنی: عن عمرو بن ميمون الأودي؛ أنه سمع عبدالله بن عمرو يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما على الأرض من رجل يقول: لا إله إلا الله، والله أكبر، وسبحان الله، والحمد لله، ولا حول ولا قوة إلا بالله؛ إلا كفرت ذنوبه، ولو كانت أكثر من زبد البحر". (14/521)
وفي السنن الكبرى للنسائي: عن الزهري، عن أبان بن عثمان قال:" من قال حين يمسي وحين يصبح ثلاث مرات: سبحان الله العظيم وبحمده، لا حول ولا قوة إلا بالله، لم يصبه شيء يضره "۔ (9/12)
وفيه أیضاً: عن أبي هريرة، قال:" من قال عند منامه: لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، لا حول ولا قوة إلا بالله، سبحان الله وبحمده، لا إله إلا الله، والله أكبر، غفرت ذنوبه وإن كانت أكثر من زبد البحر" . (9/298)
وفي الإتقان فی علوم القرآن: الإجازة من الشيخ غير شرط فی جواز التصدي للإقراء والإفادة فمن علم من نفسه الأهلية جاز له ذلك وإن لم يجزه أحد وعلى ذلك السلف الأولون والصدر الصالح وكذلك فی كل علم وفي الإقراء والإفتاء خلافا لما يتوهمه الأغبياء من اعتقاد كونها شرطا. وإنما اصطلح الناس على الإجازة لأن أهلية الشخص لا يعلمها غالبا من يريد الأخذ عنه من المبتدئين ونحوهم لقصور مقامهم عن ذلك والبحث عن الأهلية قبل الأخذ شرط فجعلت الإجازة كالشهادة من الشيخ للمجاز بالأهلية اھ.( 1/355)