محترم مفتی صاحب! السلام علیکم! بعد عرض گزرش ہے کہ میرے بڑے بھائی زید کا سعودی عریبیہ میں ستمبر 2017 ءمیں انتقال ہو گیا تھا، میرے بھائی زید کی دو بیٹیاں ہیں، میرے ابو محمد عمرو کا14 جولائی 2025ء میں اِنتقال ہوا ہے، میرے ابو کے وراثت میں سے بھائی کی بیٹیوں کا کِتنا حصہ بنتا ہے؟ پلیز مجھے بتائیں ۔ابو کےوارث : 1 بیوہ،2بیٹے اور 3 بیٹیاں ۔
واضح ہو کہ جس بیٹے کا انتقال اپنے والد کی حیات میں ہو جائے، تو اس کی اولاد کا اپنے دادا کے ترکہ میں دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں شرعاً کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ بھائی زید کا انتقال اپنے والد کی حیات میں ہی ہوچکا تھا،لہذا سائل کے والد مرحوم کے ترکہ میں شرعاً بھائی زید کی بیٹیوں کا حصہ نہیں، البتہ اگرمرحوم کے ورثاء اپنی مرضی سے اپنے حصوں میں سے انہیں بھی کچھ دینا چاہیں، ، تو انہیں اس کا مکمل اختیار حاصل ہے،اور یہ باعثِ اجرواثواب بھی ہے،تاہم ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائداد سونا ، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہو ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، البتہ اگر کسی اور نے تبرعاً یہ مصارف ادا کئے ہوں، تو اب یہ ترکہ سے منھا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ( 8) حصے بنائے جائیں،جن میں سے بیوہ کو ایک ( 1) ،ہر بیٹے کو ( 2) اور ہر بیٹی کو ایک ( 1) حصہ دیا جائے، جیسا کہ ذیل کے نقشے سے بھی واضح ہو رہا ہے۔ مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں۔
مسئلہ 8 مرحوم( والد صاحب)
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
1 2 2 1 1 1
12.5% 25% 25% 12.5% 12.5% 12.5%
کما فی الدر المختار: ثم شرع فی الحجب فقال ( و لا یحرم ستۃ ) من الورثۃ (بحال) البتۃ ( الأب و الأم و الإبن و البنت ) ای الأبوان و الولدان ( و الزوجان ) و فریق یرثون بحال، و یحجبون حجب الحرمان اخرٰی و ھم غیر ھٰؤلاء الستۃ سواء کانوا عصبات أو ذوی فروض و ھم مبنی علی اصلین احدھما ( أنہ یحجب الأقرب ممن سِواھم الأبعد ) لما مر أنہ یقدم الأقرب فالأقرب اتحدا فی السبب أم لا ( و ) الثانی ( أن من أولی بشخص لا یرث معہ ) کإبن الإبن لا یرث مع الإبن الخ ( فصل فی العصبات، ج 6، ص 779، طِ: ایچ ایم سعید )۔
و فی الھندیۃ: الباب الرابع فی الحجب: و ھو نوعان حجب حرمان و حجب نقصان فحجب النقصان ھو الحجب من سھم الی سھم ( الی قولہ) و من عدا ھٰؤلاء فالأقرب یحجب الأبعد کالإبن یحجب اولاد الإبن و الأخ لابوین یحجب لاخوۃ لاب و من یدلی بشخص لا یرث معہ الا اولاد الام الخ ( الباب الرابع فی الحجب، ج 6، ص 452،ط: احیاء التراث العربی )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0