السلام علیکم
میرا وراثت سے متعلق ایک سوال ہے۔ میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے، ان کی جائیداد تقسیم کرنی ہے، ورثاء میں میری والدہ (بیوہ) ، میں (بیٹی)، میرے دو چاچا، میری تین پھوپھیاں ہیں، تین میں سے ایک پھوپھی کا انتقال والد کے بعد ہوا تھا، (وہ غیر شادی شدہ تھی اور ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں)، گھر کے سربراہ ہونے کے ناطے ساری چیزوں کی دیکھ ریکھ ان کے ذمہ تھی، اس میں کچھ زیورات ہیں، جو میری والدہ اور میرے ہیں، کچھ فارن کرنسی ہے، جو میری والدہ کے پاس تھی، کچھ کمپنی کے شئیرز ہیں، جو بالترتیب میرے، میرے شوہر، میری والدہ اور میرے والد کے علیحدہ اکاونٹس میں ہیں، میں نے وراثت اپنے چچاؤں کو پیش کی تھی، لیکن ان دونوں نے اسے لینے سے صاف منع کر دیا تھا، یہاں تک کہ کچھ کمپنی کے شئیرز میرے ایک چچا کے پاس ہیں اور اس کا ڈیویڈنڈ بھی باقاعدگی سے وہ مجھے لا کر دے دیتے ہیں، حالانکہ میرے کئی بار کہنے کے باوجود نہ ہی وہ شئیرز لے رہے ہیں اور نہ ہی ڈیویڈنڈ، میں نے ان کے رویہ سے سمجھا تھا، چونکہ وہ وراثت میں حصہ نہیں چاہتے تو اب یہ وراثت میری والدہ، میری دو پھوپھیوں اور مجھ میں تقسیم ہونا ہے، چند دن پہلے مجھے یہ بات پتہ چلی کہ شریعت میں وراثت کے معاملات اتنے آسانی سے حل نہیں ہوتے، اب آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ وراثت کی تقسیم کیسے کی جائے؟ جبکہ میرے دونوں چاچا وراثت میں اپنا حصہ لینے کے لئے تیار ہی نہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ جس پیسے کو کمانے میں میرا خون پسینہ شامل نہیں، وہ میرا کیسے ہو سکتا ہے؟ براہِ مہربانی اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ وراثت کے مال سے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ اگر کوئی وارث مرحوم کے ترکہ میں سے اپنا حصہ لینے سے انکار کر دے یا تقسیمِ میراث سے قبل اپنا حصہ معاف کر دے تب بھی مرحوم کے ترکہ میں اس کا شرعی حق ختم نہیں ہوتا، نہ ہی اس طرح معاف کرنے سے اس کا حصہ معاف ہوتا ہے، بلکہ بدستور وہ اپنے حصۂ شرعیہ کا حقدار ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے چچاؤں کا حصہ مرحوم بھائی کی جائیداد میں بدستور برقرار ہے، تاہم اگر سائلہ کے چچا واقعۃً اپنی مرضی و خوشی سے مرحوم بھائی کے ترکہ میں سے اپنا حصہ سائلہ اور دیگر ورثاء کو دینے پر آمادہ ہوں تو اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے حصہ پر قبضہ کرلینے کے بعد اپنی خوش دلی سے جس کو گفٹ دینا چاہیں یا ترکہ میں سے کچھ لے کر بقیہ حصہ سے دستبردار ہو جائیں، تو ایسا کرنے سے سائلہ اور دیگر ورثاء مذکور حصۂ میراث کے بھی شرعی مالک بن جائیں گے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا و چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو اور بیوہ نے معاف بھی نہ کیا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل تین سو چھتیس (336) حصے بنائیں، جن میں سے بیوہ کو بیالیس (42) حصے، بیٹی (سائلہ) کو ایک سو اڑسٹھ (168) حصے، ہر بھائی کو بیالیس (42) حصے اور ہر بہن کو اکیس (21) حصے دیے جائیں۔
کما فی شرح الاشباہ و النظائر : ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبلہ و بیان ان الساقط لا یعود لو قال الوارث: ترکت حقی لم یبطلہ حقہ اذ الملک لا یبطل بالترک، و الحق یبطل بہ حتی لو ان احداً من الغانمین قال قبل القسمۃ: ترکت حقی بطل حقہ الخ (الفن الثالث ، ج: 3 ، ص: 53 ، ط: ادارۃ القرآن)۔
وفی تکملہ رد المحتار : لو قال ترکت حقي من المیراث ،أو برئت منہا ومن حصتي لا یصح، وھو علی حقہ ؛ لأن الإرث جبري ،لا یصح ترکہ اھ (کتاب الدعوی، باب دعوة النسب، ج: 8 ، ص: 89 ، ط: سعید)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0