السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں وراثت کے معاملے میں ماہرانہ رہنمائی حاصل کر رہا ہوں جس میں ہمارے مرحوم والد کے HBL بینک اکاؤنٹ میں رکھے گئے فنڈز شامل ہیں۔ ہم تین بہن بھائی ہیں، دو بھائی اور ایک بہن اور اسلامی اصولوں کے مطابق، مثالی طور پر مفتی یا مستند عالم کی رہنمائی میں تقسیم کو مکمل طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔
ہمارے والد کا انتقال 11 جنوری 2025 کو ہوا۔ اپنی زندگی کے دوران، انہوں نے اپنے HBL اکاؤنٹ سے کچھ بچوں کو تحفہ دیا، جن میں ایک بیٹا اور بیٹی بھی شامل ہے۔ اس نے اپنے چھوٹے بیٹے کے لئے بقیہ رقم کا اعلان کیا، جو بیرون ملک رہتا ہے۔ تاہم متعدد دعوتوں کے باوجود اس بیٹے نے گزشتہ چھ سات سالوں سے نہ تو دورہ کیا اور نہ ہی فنڈز پر قبضہ کیا۔ کیا والد کے انتقال کے بعد HBL اکاؤنٹ میں باقی رقم والد کے زبانی اعلان کے مطابق صرف چھوٹے بیٹے کی ہے؟ یا اسلامی وراثت کے احکام کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم کر دی جائے؟ ہم اس معاملے کو واضح اور اسلامی تعلیمات کی مکمل تعمیل کے ساتھ حل کرنے میں مدد کرنے کے لیے، قرآن، حدیث، یا کلاسیکی فقہ کے حوالہ جات سے مثالی طور پر تائید شدہ واضح ردعمل کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کریں گے۔ جزاکم اللہ خیرا۔
نوٹ: سائل کو ترکہ کی تقسیم مطلوب نہیں ہے،بلکہ سائل کا سوال یہ ہے کہ سائل کے والد نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کردی تھی،جبکہ اکاؤنٹ میں موجود رقم کو دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو استعمال کرنے کی اجازت دی(مثلاً:کل رقم 15 لاکھ ہے،ہر بیٹے کو چھ لاکھ اور بیٹی کو تین لاکھ دیے)،بیٹی کو اس کا حصہ چیک کی صورت میں دیدیا تھا،اور سائل کو بھی بتادیا تھا کہ تمہارا اتنا حصہ ہے،اور سائل اپنی ضرورت کے مطابق والد سے اپنے حصے کے پیسے لیتا رہا،اور اپنے حصہ کی ساری رقم والد صاحب کی زندگی میں استعمال کرلی تھی،جبکہ سائل کا والد اسکے چھوٹے بھائی یعنی اپنے بیٹے کوجو باہر ملک میں تھا فون کرکے بلاتا رہا کہ آجاؤ اور اپنا حصہ لے جاؤ،لیکن وہ والد صاحب کی وفات تک نہیں آیا،اب جب سات سال گزر گئے تو وہ آئے ،اوراب وہ اپنے حصہ کی رقم کا مطالبہ کررہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ میں نے والد صاحب کو کہدیا تھا کہ یہ رقم آپ بطور امانت اپنے پاس رکھیں ، میں جب آؤں گا تو لے لوں گا، ایسی صورت میں وہ رقم چھوٹے بھائی کو دینی ہے یا تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگی؟
واضح ہو کہ فقط زبانی طور پر ہبہ کرنے سے ہبہ مکمل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے تام ہونے کے لئے واہب کا شئی موہوبہ سے اپنے تمام حقوق اور قبضہ ختم کر کے موہوب لہ کو حوالے کرنا شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے والد مرحوم نے اکاونٹ میں موجود رقم اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان تقسیم کر کے ایک بیٹی اور ایک بیٹے نے اپنے اپنے حصے کی رقم بھی استعمال کر لی تو ان کے حق میں ہبہ مکمل ہو کر وہ اپنے اپنے حصص کے مالک بن چکے ہیں، البتہ جس بیٹے نے اپنے حصہ پر والد مرحوم کی زندگی میں قبضہ نہیں کیا تھا ، تو اس کے حصہ میں ہبہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ رقم والد کی ملکیت شمار ہو کر اب ان کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ کہلائےگی جو ان کے تمام ورثاء میں حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم کی جائے گی، البتہ جب سائل اور اس کی بہن نے بینک اکاونٹ میں موجود رقم میں سے اپنے اپنے حصے کی رقم استعمال کر لی ہے تو ان کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ بقیہ رقم اس بھائی کے حق میں چھوڑ کر اس سے کسی قسم کا مطالبہ نہ کریں تاکہ سب میں برابری ہو سکے ، تاہم ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
کما فی الھندیۃ: و منھا أن یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 374، ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: و لا یتم حکم الھبۃ الا مقبوضاً و یستوی فیہ الاجنبی و الولد إذا کان بالغاً ھکذا فی المحیط الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 377، ط: ماجدیۃ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2