ایک شخص جس کا نام ......تھا اپنی زوجہ کے انتقال کے بعد دوسری شادی کی پہلی بیوی سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں سب کی شادی ہوگئی تھی اس نے دوسری شادی کی جس سے چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے اس نے اپنی حیات میں اپنی پہلی زوجہ سے جو اولاد تھی ان کو باقاعدہ اپنی جائیداد سے حصہ دے دیا تھا اور جو بھی حصہ اس وقت کے حساب سے بنا تھا وہ قبضہ بھی دے دیا تھا اور لکھت میں لکھا وا بھی لیا تھا اب ان کا انتقال ہوگیا ہے اب پہلی بیوی سے اولاد ان کی وارثت میں حق مانگ رہی ہے .اب بتائیں کیا پہلی بیوی کے بچوں کا حق ہے ان کے وراثت میں ؟
واضح ہو کہ جب کوئی شخص مرض الوفاۃ سے قبل اپنی زندگی میں اولاد یا دوسرے ورثاء میں سے کسی کو اس کا حصہ دے کر اسے باقاعدہ مالک اور قابض بنا دے تو ایسی صورت میں وہ ہبہ کہلاتا ہے ، اور موہوب لہ ( جس کو ہبہ کیا گیا ہو ) اس کا مالک بن جاتا ہے ، جس میں دیگر ورثاء کو کسی قسم کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہوتا ، نیز اس ہبہ کردہ چیز کو شرعاً اس کے حصۂ میراث میں بھی شامل نہیں کیا جا سکتا ، اور نہ ہی اس کی وجہ سے اس کا حصہ میراث ساقط ہو گا ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم ......نے اپنی زندگی میں جو جائیداد سابقہ بیوی کی اولاد کو دی تھی وہ اس کے مالک بن چکے ہیں ، اس میں دوسری بیوی اور اس کی اولاد کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ، لیکن اس کی وجہ سے ان کا والد مرحوم کے میراث میں موجود شرعی حق ساقط نہ ہوگا۔
بلکہ مرحوم کے موجودہ ترکہ میں سابقہ بیوی کی اولاد سمیت تمام ورثاء حسبِ حصصِ شرعیہ ِ شریک ہیں ، جو ان کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہو گا ، تاہم جب پہلی بیوی کی اولاد مرحوم کی زندگی میں ان کی جائیداد میں سے حصہ لے چکی ہے تو اب ان کے لئے مرحوم کے موجود ترکہ میں تھوڑا بہت لیکر بقیہ جائیداد دیگر ورثاء کے حوالہ کردینا چاہیئے، تاکہ ان کے لئے بھی گزر بسر کا انتظام ہو سکے ،تاہم ایساکرنا ان پر لازم نہیں ۔
کما فی الدر: و فی الخانیۃ لا بأس بتفضیل الأولاد فی المحبۃ لأنھا عمل القلب و کذا فی العاطایا إن لم یقصد بہ الإضرار و إن قصدہ فسوّی بینھم یعطی البنت کالإبن عند الثانی و علیہ الفتوی و لو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز و أثم الخ۔ ( کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 696، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی شرح المجلۃ: كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم الخ۔الفصل الثالث فی بیان المشترکۃ، ج: 4، ص: 31، ط مکتبۃ اسلامیۃ کوئٹہ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0