جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مجھے مسئلہ معلوم کرنا ہےکہ میرے شوہر کا انتقال 2 جنوری 2025 کو ہوا تھا، ورثا میں اہلیہ، ایک بیٹا 10 سال کا، دوسری بیٹی چھ سال کی چھوڑی ہے ، میرے شوہر کے انتقال سے پہلےمیرے سسر کا انتقال 2 فروری 2023 کو ہوا تھا، انہوں نے اپنے ورثاء میں اہلیہ،تین بیٹیاں، ایک بیٹا چھوڑا تھا، دو سال بعد بیٹے کی بھی وفات ہو گئی ،میرے سسر کے ترکہ میں چھوڑی ہوئی جائیداد میں ایک بنگلہ 400 گزبلوچ کالونی ،2دکانیں، اور ایک آفس جو کہ جوڑیا بازار میں واقع ہے ،ایک دکان ،ایک بنگلہ 400گز، جو کہ میری ساس کے نام ہے، وہ ان کو اپنے میکے سے وراثت میں ملاہے، ایک دکان میرے سسر کے نام ہے ،اور آفس جو ہے ،وہ میرے شوہر کے نام ہے،اوران کی ذاتی ملکیت ہے، آیا معلوم یہ کرنا ہےکہ اس کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جو جائیداد یں جن کے نام ہیں،اگر وہ جائیدادیں واقعۃً بھی انہی کی ملکیت ہوں، فقط نام نہ ہوتو ایسی صورت میں ان جائیدادوں کاشرعاً وہی مالک شمار ہوگا،جس کے نام پر یہ جائیداد ہے، پھر اس کے انتقال کے بعد اس کے شرعی ورثاء حسبِ حصص شرعیہ حقدار ہونگے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائلہ کے سسر مرحوم کاذاتی ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا، چاندی،زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہو،یا بیوہ کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہواور اس نے معاف بھی نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل چالیس (40) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو پانچ(5)حصے،بیٹے کو چودہ(14) حصے ، جبکہ ہر بیٹی کو سات (7) حصےدیے جائیں ۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائلہ کے شوہرکو اپنے والدِ مرحوم کے ترکے سے ملنے والا حصہ ،اور ان کا اپناذاتی ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ہ ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا، چاندی،زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہو،یا بیوہ کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہواور اس نے معاف بھی نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کونو(9)حصے،مرحوم کی والدہ کوبارہ(12) حصے ، بیٹے کوچونتیس(34)حصے اور بیٹی کو سترہ (17) حصےدیے جائیں .
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0