اگر کسی کے بیوی کی اپنی جائیداد ہو اور اس کا انتقال ہو جائے ،اور اس کے مرنے کے کچھ سال بعد اس کے شوہر کا بھی انتقال ہو جائے اور ان کی کوئی اولاد نہ ہوں، تو اس کے ترکے کی تقسیم کیسے ہوگی؟ نوٹ: بیوی کے چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں ۔ شوہر کے تین بھائی اور ایک بہن موجود ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کے انتقال کے وقت بچوں کی عدم موجودگی کی صورت میں اس کے ترکہ میں سے نصف ترکہ کا حقدار اس کا شوہر بنتا ہے، جو اس (شوہر ) کے انتقال کے بعد اس کے شرعی ورثاء جیسے بہن بھائیوں ، چچااور ،چچازاد وغیرہ ، اور بقیہ نصف حصہ مرحومہ کے ورثاء جیسے بہن بھائیوں اور چچا وغیرہ کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگا،جس کا طریقہ کا رورثاء کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کے بعد معلوم کیا جاسکتا ہے۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0