السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ :میرے والد اپنی والدہ (میری دادی) کی حیات میں وفات پا گئے تھے۔ چند سال بعد میری دادی کا بھی انتقال ہو گیا۔ ہم اسی گھر میں رہتے ہیں جو دادی کے نام تھا، اور اس گھر میں میرے والد اور ان کے تین بھائی رہتے تھے۔ ان چار بھائیوں میں سے میرے والد اور ان کے بڑے بھائی دادی کی حیات میں ہی وفات پا گئے۔ اب ورثاء میں دو بھائی زندہ ہیں ۔سوال یہ ہے کہ دادی کے انتقال کے بعد اس جائداد کا وراثتی حصہ کس طرح تقسیم ہوگا؟ براہِ کرم اس مسئلے کا حل اور فتویٰ قرآن، سنت، اسلامی شریعت (فقہ) اور پاکستانی قوانین کی روشنی میں واضح طور پر بیان فرمائیں، تاکہ ہمیں شرعی اور قانونی دونوں نقطۂ نظر سے درست راہنمائی مل سکے۔1: دادا کا انتقال دادی والد اور تایا تینوں کے انتقال سے پہلے ہوچکا تھا ۔ 2 :تایا کا انتقال بھی دادی کے اور والد دونوں کے انتقال سے پہلے ہوچکا تھا ۔ 3: یہ گھر دادا نے اپنی ( دادی ) کے نام کرکے اس کو باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ بھی دیا تھا جس میں سائل کی دادی تاحیات رہائش پذیر تھی ۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کے والد اور تایا کا انتقال دادی کی زندگی میں ہی ہو چکا ہے، اس لیے شرعی اصول کے مطابق وہ دونوں (یعنی سائل کے والد اور مرحوم تایا) دادی کے وارث نہیں بنیں گے، اور نہ ہی ان کےواسطے سے ان کی اولادیں یعنی دادی کے پوتے پوتیاں وارث بنیں گے، لہذا سائل کی دادی کے انتقال کے وقت موجود ان کے زندہ دونوں بیٹے ہی ان کے تمام ترکہ کے آدھے آدھے حصہ کے وارث ہوں گے ۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0