محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته۔
میرے والد کے زیرِ ملکیت ایک چھ مرلے کمرشل جائیداد تھی، جس میں نیچے چار دکانیں اور اوپر دو منزلہ عمارت (13 کمرے) موجود ہیں۔
میرے بھائی ....نے ہماری مشاورت یا اجازت کے بغیر، جائیداد کی دو دکانیں ایک پرانے کریہ دار...." کو اڑھائی لاکھ روپے بیعانہ لے کر فروخت کرنے کی کوشش کی۔ ہمیں بعد میں علم ہوا، اور ہم نے عدم رضا اور لاتعلقی ظاہر کی۔ لیکن وہ خریدار آج بھی قبضہ میں ہے، کرایہ نہیں دیتا، اور مالک ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے، حتیٰ کہ حالیہ ری ماڈلنگ کے سلسلے میں سرکاری کاغذات میں بھی خود کو مالک ظاہر کیا۔
1. کیا ایسی جائیداد جس کا انتقال نہ ہوا ہو اور جو وراثتی طور پر تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہو، اسے کوئی ایک وارث اپنی طرف سے بلا مشورہ فروخت کر سکتا ہے؟
2. ایسی فروخت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3. کیا بیعانہ (Earnest Money) کا لین دین شرعاً درست ہے اگر بیچی گئی چیز ابھی شرعی طور پر اس کے حق میں متعین نہ ہو؟
4. کیا وہ خریدار (.....)، جو پہلے کرایہ دار تھا اور آج تک کرایہ نہیں دے رہا، شرعاً غاصب شمار ہوگا؟
5. کیا وہ گزشتہ برسوں (2021 سے تا حال) کا کرایہ شرعاً ادا کرنے کا پابند ہے؟
واضح ہو کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا مالِ متروکہ کو اس کے تمام ورثاء کے درمیان ان کے حصصِ شرعیہ کے بقدر تقسیم کرنا لازم و ضروری ہے ، کسی ایک وارث کا دوسرے ورثاء کی اجازت و مرضی کے بغیر مالِ متروکہ میں سے کسی چیز کو فروخت کرنا جائز نہیں ، ایسا کرنے کی صورت میں صرف اس کے حصۂ میراث میں بیع نافذ ہوگی ، باقی شرکاء کے حصے میں بیع ان کی اجازت و مرضی کے حصول پر موقوف ہوگی، اور اگر معلوم ہونے پر وہ اس کی اجازت دیتے ہیں تو ان کے حصے میں بھی بیع نافذ ہوجائے گی، ورنہ نہیں ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بڑا بھائی ان دکانوں میں دوسرے ورثاء کے حصے کو فروخت کرنے کا مجاز نہیں ، اگر اس نے ان کے حصے کو بھی فروخت کردیا ہے تو ان کے لیے یہ اختیار باقی ہے کہ وہ اپنے حصے کی بیع کو منسوخ کردیں ، اور اس صورت میں خریدار پر باقی ورثاء کے حصے کی قیمت سائلہ کے بھائی سے واپس وصول کرکے ان کے حصے کو خالی کرکے ان کے ورثاء کے حوالے کرنا لازم اور ضروری ہے، البتہ اگر دوسرے ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے اپنا حصہ براہ راست اسی خریدار کو نئے عقد اور قیمت کے ساتھ فروخت کرنا چاہیں تو یہ بھی درست ہے،
جبکہ بیعانہ در اصل قیمت کا ایک جزء ہوتا ہے جو ابتدائی طور پر پیشگی وصول کیا جاتا ہے، اور بقیہ قیمت بیع کی تکمیل پر لی جاتی ہے۔ اگر معاملہ بیع مکمل نہ ہو تو بیعانہ واپس کرنا لازم ہوجاتا ہے ۔
کما فی سنن أبی داؤد: عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده، أنه قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان» قال مالك: وذلك فيما نرى والله أعلم أن يشتري الرجل العبد، أو يتكارى الدابة، ثم يقول: أعطيك دينارا على أني إن تركت السلعة، أو الكراء فما أعطيتك لك.( باب فی العربان، ج: 3، ص: 102، ناشر: المطبعۃ الأنصاریۃ )-
و فی شرح المجلۃ : المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ ( الکتاب العاشر : فی انواع الشرکات، ج 4 ، ص 27 ، ط دار الکتب العلمیۃ )-
و فی الدر المختار : لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ ( کتاب الغصب ، ج 9 ، ص 291 ، ط دار الکتب العلمیۃ )-
و فی مجلۃ الأحکام العدلیۃ : (المادة 215) يصح بيع الحصة المعلومة الشائعة بدون إذن الشريك اھ (الفصل الثاني: في ما يجوز بيعه وما لا يجوز، ص : 43، ناشر: نور محمد کراتشی )-
و فی درر الأحکام فی شرح مجلۃ الأحکام : (المادة 215) يصح بيع الحصة المعلومة الشائعة بدون إذن الشريك سواء كان المشاع قابلا للقسمة أو غير قابل عقارا أو منقولا اھ(المادة 215) بيع الحصة المعلومة الشائعة بدون إذن الشريك، ج: 1، ص : 189، ناشر: دار الجیل )-
و فی الدر المختار: (كل تصرف صدر منه) تمليكا كان كبيع وتزويج، أو إسقاطا كطلاق وإعتاق (وله مجيز) أي لهذا التصرف من يقدر على إجازته (حال وقوعه انعقد موقوفا) وما لا مجيز له حالة العقد لا ينعقد أصلا اھ
و فی رد المحتار : تحت (قوله: كل تصرف إلخ) ضابط فيما يتوقف على الإجازة وما لا يتوقف. (قوله: صدر منه) أي من فضولي أو من المتصرف مطلقا اھ ( فصل فی الفضولی، ج : 5، ص: 106، ناشر: سعید )-
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0