احکام وراثت

گود لی ہوئی بیٹی کی وراثت کا حکم

فتوی نمبر :
85872
| تاریخ :
2025-09-04
معاملات / ترکات / احکام وراثت

گود لی ہوئی بیٹی کی وراثت کا حکم

عالی جناب مفتی صاحب دامت برکاتہ
میری ایک بہن اور میں ہوں۔ ہمارے والدین دونوں کا انتقال ہوچکا ہے۔ والدنے ہماری پیدائش سے پہلے ہماری خالہ کی بیٹی کو گود لیا تھا۔ہماری پیدائش کے بعد والدنے اپنی زندگی میں اس گود لی ہوئی بہن کو ایک گھر کا آدھا حصہ دیا اور آدھا حصہ میری والدہ کے نام رکھا تھا، اسی طرح دوسری جائیداد میں سے ایک قطعہ زمین بھی اس کے نام کیا تھا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ والدین کے انتقال کے بعد باقی ماندہ جائیداد کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا گود لی ہوئی بہن کو بھی اس میں سے کوئی شرعی حصہ ملے گا یا صرف میں اور میری حقیقی بہن وارث ہوں گے؟ مزید یہ کہ میں نے اپنی اولاد ہونے سے پہلے اپنی بہنوں سے کہا تھا کہ ہم والدین کی جائیداد کی رقم تینوں (میں، میری حقیقی بہن اور گود لی ہوئی بہن) میں برابر تقسیم کریں گے۔ ایک جائیداد کی رقم ہم نے برابر تقسیم بھی کی تھی۔ لیکن میں نے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر مجھے اولاد ہوگئی تو میں شریعت کے مطابق اپنا حصہ لوں گا۔ اب چونکہ اللہ نے مجھے اولاد عطا فرمائی ہے، تو کیا میں اپنی گود لی ہوئی بہن کو دیے گئے پیسوں کا مطالبہ کرسکتا ہوں، جبکہ اسے اپنے حقیقی والدین کی طرف سے بھی شرعی وراثت مل چکی ہے؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں، تاکہ میں شرعی اصولوں کے مطابق عمل کروں اور آخرت میں مجھ پر کوئی وبال نہ ہو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں سائل کے والدمرحوم کی جانب سے ان کی والدہ اورمنہ بولی بیٹی کوہبہ (گفٹ)کیاگیا مکان اگر اس طرح ہو کہ اس کو تقسیم کرکےدونوں (والدہ ،منہ بولی بیٹی) میں سےہر ایک کو قابلِ منفعت حصہ باقاعدہ قبضہ کے ساتھ ان کے سپردکردیاگیاہو تو اس صورت میں یہ ہبہ درست شمارہوگااوروہ دنوں اس مکان کی مالک شمارہوں گی جسے والدمرحوم کے انتقال کے بعدترکہ میں شامل کرکے ان کے ورثاء میں تقسیم نہیں کیاجائے گا، تاہم اگراس مکان کوتقسیم کرناممکن ہواوروالدمرحوم نے مشاع طور پر (بلاتقسیم) مکان دونوں کودیاہویاصرف کاغذات میں ان کے نام کیاہوباقاعدہ مالکانہ حقوق وقبضہ کے ساتھ ان کے حوالے نہ کیاہو،تو اس صورت میں وہ مکان بدستورسائل کے والدمرحوم کی ہی ملکیت ہے جوان کے انتقال کے بعدان کے ترکہ کاحصہ ہی شمارہوگااوران کے موجودورثاء میں تقسیم کیاجائے گا،اسی طرح منہ بولی بہن کودیاگیاقطعہ ارضی بھی اگرمالکانہ حقوق وقبضہ کے ساتھ دیاگیاہوتو وہ اس کی ملکیت ہے، ورنہ وہ بھی مرحوم کی وراثت بنے گا، مزید یہ کہ گود لینا حقیقی بیٹی کا درجہ نہیں دیتا، اس لیے گود لی ہوئی بیٹی شرعاً گود لینے والے کی وارث نہیں بنتی اور ان کے ترکہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ لہٰذاسائل کے والدین مرحومین کا ترکہ صرف ان کے شرعی ورثاء(بیٹا،حقیقی بیٹی) میں حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔ البتہ والدین کی وفات کے بعد جو جائیداد بیچی گئی اور اس کی رقم سائل، اس کی حقیقی بہن اور گود لی ہوئی بہن کے درمیان تین برابر حصوں میں تقسیم کی گئی، تو اگر سائل اور اس کی حقیقی بہن اس تقسیم پر راضی تھیں، اور دونوں نے اپنے اپنے حصے پر قبضہ بھی کر لیا تھا، تو شرعاً یہ تقسیم درست قرار پائے گی۔ چونکہ گود لی ہوئی بہن اصل میں وارث نہ تھی، اس کو دیا گیا حصہ درحقیقت سائل اور اس کی حقیقی بہن کی طرف سے ہبہ (گفٹ) تھا، جو صحیح طریقے سے نافذ ہو کر اس کی ملکیت بن چکا ہے۔یہ معاملہ دونوں(سائل ،حقیقی بہن) کی طرف سےمنہ بولی بہن کے ساتھ احسان و تبرع شمار ہوگا، اور اب یہ تقسیم تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ تاہم گود لی ہوئی بہن اگر اپنی مرضی وخوشی سے اس میں سے کچھ واپس دینا چاہے تو دے سکتی ہے،لیکن ایساکرنااس پرلازم وضروری نہیں ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدین مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان چھوڑا ہو، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے۔ جس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل تین (3) حصے بنائے جائیں ، جس میں سے مرحومین کے بیٹے کو دو (2) حصے اور بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے.

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن المجید: (ادعوهم لآبائھم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين و مواليكم و ليس عليكم جناح فيما أخطأتم به و لكن ما تعمدت قلوبکم و کان اللہ غفورا رحیما) الآیۃ۔ (سورۃ الأحزاب، آیت نمبر:5)۔
وفی التفسیرالمظھری: فلا يثبت بالتبني شىء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك۔ وفى الآية ردّ لما كانت العرب تقول من أن اللبيب الأريب له قلبان والزوجة المظاهر منھا تبين من زوجھا وتحرم عليه كالأم و دعى الرجل ابنه يرثه ويحرّم بالتبني ما يحرم بالنسب إلخ۔( سورۃ الأحزاب، آیت نمبر:5، ج 7، ص284، ط: الرشدیۃ، باکستان)۔
وفی الھندیۃ:قال أصحابنا جميعا: إذا وهب هبة وشرط فيھا شرطا فاسدا فالھبة جائزة والشرط باطل كمن وهب لرجل أمة فاشترط عليه أن لا يبيعھا أو شرط عليه أن يتخذها أم ولد أو أن يبيعھا من فلان أو يردها عليه بعد شھر فالھبة جائزة وهذه الشروط كلھا باطلة(إلی قولہ) وإن وهب لرجل أمة على أن يردها عليه أو على أن يعتقھا أو على أن يستولدها أو وهب له دارا أو تصدق عليه بدار على أن يرد عليه شيئا منھا أو يعوضه شيئا منھا فالھبة جائزة والشرط باطل، كذا في الكافي والأصل في هذا ‌أن ‌كل ‌عقد ‌من ‌شرطه ‌القبض ‌فإن ‌الشرط ‌لا ‌يفسده كالھبة والرهن إلخ۔ (كتاب الھبة، الباب الثامن في حكم الشرط في الھبة، ج:4، ص:396، ط: رشيدية)۔
وفی مجمع الأنھر شرح ملتقی الأبحر: (و تصح ھبۃ مشاع لا یحتمل القسمۃ) أی: لیس من شأنہ أن یقسم بمعنی لا یبقی منتفعا بہ بعد القسمۃ أصلا کعبد ودابۃ، ولا یبقی منتفعا بہ بعد القسمۃ من جنس الانتفاع الذی کان قبل القسمۃ کالبیت الصغیر و الحمام (إلی قولہ) لا تصح ھبۃ (ما) أی: مشاع (یحتملھا) أی القسمۃ علی وجہ ینتفع بعد القسمۃ کما قبلھا کالأرض، و الثوب، و الدار، و نحو ذالک إلخ۔ (کتاب الھبۃ، ج 3، ص 494، ط: غفاریۃ)۔
وفی الدر المختار: ثم شرع فی مسئلۃ التخارج فقال (ومن صالح من الورثۃ) و الغرماء علی شئی معلوم منھا (طرح) أی اطرح سھمہ من التصحیح و جعل کأنہ استوفی نصیبہ(ثم قسم الباقی من التصحیح) أو الدیون (علی سھام من بقی منھم، فتصح منہ) إلخ۔
وفی الشامیۃ: تحت(قوله ثم شرع في مسألة التخارج) تفاعل من الخروج وهو في الاصطلاح تصالح الورثة على إخراج بعضھم عن الميراث على شيء من التركة عين أو دين قال في سكب الأنھر وأصله ما روي أن عبد الرحمن بن عوف رضي الله تعالى عنه طلق في مرض موته إحدى نسائه الأربع ثم مات وهي في العدة فورثھا عثمان رضي الله تعالى عنه ربع الثمن فصالحوها عنه على ثلاثة وثمانين ألفا من الدراهم وفي رواية من الدنانير وفي رواية ثمانين ألفا وكان ذلك بمحضر من الصحابة من غير نكير (إلی قولہ)أنھم لو أخرجوا واحدا، وأعطوه من مالھم فحصته تقسم بين الباقي على السواء وإن كان المعطى مما ورثوه فعلى قدر ميراثھم قال الشارح هناك وقيده الخصاف بكونه عن إنكار فلو عن إقرار فعلى السواء إلخ۔ (کتاب الفرائض، باب المخارج، ج 6، ص 811، ط:دار الفکر)۔
وفی فتح القدیر: والأصل أن ‌الشرط ‌في ‌الھبة إذا كان يمنع ثبوت الملك للحال يمنع صحة الھبة، وإن كان لا يمنع ذلك صحت الھبة ويبطل الشرط، ثم تفسير العمرى أن يقول: جعلت هذه الدار لك عمرك فإذا مت فھي رد علي فيصح الھبة؛ لأن هذا الشرط لا يمنع أصل التمليك إلخ۔ (کتاب الھبۃ،فصل ومن وهب جارية إلا حملھا، ج 9، ص 57، ط:دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85872کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات