ایک آدمی فوت ہوگیا ہے، اس نے اپنے پیچھے صرف چچا زاد بھائی اور چچا زاد بہنیں(یعنی اپنے چچا کے بیٹے، اور بیٹیاں) چھوڑی ہیں،وراثت کس کو ملے گی؟
سوال میں مذکور شخص کی وفات کے وقت اگر واقعۃً اس کے قریبی ورثاء(والدین،اولاد، بہن بھائی، چچا ، دادا وغیرہ) میں سے کوئی حیات نہ ہو، بلکہ فقط یہی ورثاء(چچا زاد بھائی وبہنیں) موجود ہوں تو مورث کے ترکہ میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث(تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی، اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد) کی ادائیگی کے بعد بقیہ ترکہ صرف چچا زاد بھائیوں میں تقسیم ہوگا، چچا زاد بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو تقسیم ترکہ کی صورت بھی مختلف ہوگی۔
کما فی الفتاوى الهندية: وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم أربعة أيضا: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق، كذا في خزانة المفتين الخ(الباب الثالث فی العصبات، ج 6، ص 451، ط: ماجدیۃ)۔
وفی السراجی فی المیراث: اما العصبۃ بنفسہ فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ الی المیت انثی وھم اربعۃ اصناف جزء المیت واصلہ وجزء ابیہ وجزء جدہ الاقرب فالاقرب یرجحون بقرب الدرجۃ اعنی اولٰھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم وان سفلوا ثم اصلہ ای الاب ثم الجد ای اب الاب وان علا ثم جزء ابیہ ای الاخوۃ ثم بنوھم وان سفلوا ثم جزء جدہ ای الاعمام ثم بنوھم وان سفلوا (الی قولہ) ومن لافرض لھا من الاناث واخوھا عصبۃ لاتصیر عصبۃ باخیھا کالعم والعمۃ المال کلہ للعم دون العمۃ الخ(باب العصبات، ص 14،15، ط: قدیمی کتب خانہ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0