احمد کا انتقال ۲۰۱۶ میں ہوا ،ورثا میں بیوہ، ۲ بیٹے، ۴ بیٹیاں ہیں ،احمد نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا ، جولائی ۲۴ میں چھوٹے بیٹے ہارون نے اپنے بڑے بھائی کو گھر کی قیمت کا اندازہ لگا کر اس کا حصہ دے کر گھر سے نکال دیا مگر بہنوں کو ان کا حصہ نہیں دیا ، فرور ئ ۲۵ میں بیوہ کا بھی انتقال ہو گیا ، اسی دوران بیٹے ہارون نے بلا اجازت ورثاء گھر میں رینوویشن کرا کر ایک حصہ کرایہ پر دے دیا اور دوسرے حصہ میں خود رہائش رکھ لی ،پوچھنا یہ ہے کہ:
۱- کیا کوئی بہن/ بہنیں پورے مکان کے کرا یے سے اپنا حصہ کا کرایہ کا مطالبہ کر سکتی ہیں ؟ جب تک ان کو مکان کی وراثت سے ان کو حصہ نہیں دیا جاتا ۔ جبکہ بھا ئی کا کہنا ہے کہ مکان کی رینوویشن پر اس نے خرچہ کیا ہے ۔
۲۔کیا وراثت کی تقسیم مکان کی موجودہ مالیت پر ہو گی یا پرانی مالیت پر ۔
۳- بیوہ کی مرض الوفات کے دوران چھو ٹے بیٹے ہارون نے ماں سے مکان کا حصہ ہبہ کرا لیا ہے ۔ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے ۔
واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم (احمد) کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں اس کے تمام شرعی ورثاء شرعاً اپنے حصے کا حقدار ہیں ، اور کسی ایک وارث کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے وارث کے حصے کو اس کی رضامندی کے بغیر اپنے ذاتی استعمال میں لائے یا اسے محروم کرے، لہٰذاصورتِ مسئولہ میں سائل کے والد صاحب کے مذکورہ متروکہ مکان میں ان کے ورثاء(بیوہ، ۲ بیٹے، ۴ بیٹیاں) اپنے شرعی حصوں کے اعتبار سے حق دار ہیں، اور اگرسائل کے بھائی نےدیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر والد کے متروکہ مکان کی رینوویشن پر خر چہ کیا ہے اور یہ رینوویشن تمام شرکاء کے لئے تھی ،تو یہ رینوویشن سائل کے بھائی کی طرف سے تبرع و احسان ہے، لہذا اسے رینوویشن پر لگائی گئی رقم نہیں ملے گی اور نہ ہی اس کی وجہ سے اسے والد کے ترکہ میں سے اضافی حصہ ملے گا،لیکن اگر یہ رینوویشن اپنے لئے تھی، شرکاء کے لئے نہیں تھی تو اسے اس رینوویشن کے بدلےصرف ملبے کی قیمت ملے گی اور بقیہ کل مالیت ورثاء میں اصول میراث کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ جس وقت میراث تقسیم کی جاتی ہے اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہوتاہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد کی متروکہ مکان کی تقسیم میں موجودہ مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہوگا، البتہ مرض الموت میں کسی چیز کا ہبہ کرنا وصیت کے حکم میں ہوتا ہے اور وارث کے لیے وصیت دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر شرعاً معتبر نہیں ،نیز عام ہبہ کی طرح مرض الموت میں ہبہ کےتام اور مکمل ہونے کے لیے بھی کی گئی چیزکا باقاعدہ مالکانہ قبضہ اس شخص کو دے دیا جانا ضروری ہے ،ورنہ اگر اسے قبضہ نہیں دیا تو یہ ہبہ ناتمام رہتا ہے اور وہ چیز بدستور اپنےاصل مالک کی ملکیت ہی میں رہتی ہے، اور اس کے انتقال ہوجانے کی صورت میں اس کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے.
کما فی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها (الی قولہ) (قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت الخ۔ (ج:5، ص:690، ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: (قوله: مريض مديون إلخ) [فروع] وهب في مرضه، ولم يسلم حتى مات بطلت الهبة، لأنه وإن كان وصية حتى اعتبر فيه الثلث فهو هبة حقيقة، فيحتاج إلى القبض الخ۔ (كتاب الهبة،باب الرجوع في الهبة،ج:5، ص:700، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: لأن هبة المريض في معنى الوصية حتى تعتبر من الثلث الخ۔(کتاب الوصایا،فصل:وأما شرائط الرکن،ج:7، ص:337، ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: أما إذا غلت قيمتها أو انتقضت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري، ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع كذا في فتح القدير الخ۔ (کتاب البیوع،مطلب مھم فی احکام النقود،ج:4،ص:533،ط:سعید)۔
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة: (الی قولہ) الاحتمال الثاني - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا (الی قولہ) الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة الخ۔ (ج:3،ص:314،ط: دار الجيل)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0