بخدمت جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم
مجھے ”ورثاء کے شرعی حصص“کی بابت فتوی درکار ہے، میرے والد اور والدہ دونوں وفات پا چکے ہیں۔
(1): ہم چار (4) بھائی ہیں، ایک بھائی کا انتقال ہو چکا ہے، اور اسے ایک گھر دیا گیا تھا جہاں اس کے بیٹے (چار بیٹے اور ایک بیٹی)رہتے ہیں،اس کی بیوی کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے،اب تین (3) بھائی باقی ہیں، واضح رہے کہ مذکور بھائی کا والدین کے انتقال کے بعد انتقال ہوچکا ہے اور والد نے وہ گھر اسے ملکیتاً دے دیا تھا تاکہ وہ اور اس کے بچے وہاں رہیں۔
(2) :ہماری چار (4) بہنیں بھی ہیں، ایک کا انتقال والدین اور مذکور مرحوم بھائی کے انتقال کے بعد ہو چکا ہے جس کے تین (3 ) بیٹیاں اورتین ( 3) بیٹے ہیں،اور شوہر کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے، ان کا ایک بیٹا سڑک حادثے میں اپنی بیوی کے ساتھ وفات پا گیا اور ایک بیٹی کو چھوڑ گیا،کیا اس بیٹی کو حصہ دادی کے حصے سے ملے گا؟
ہمارے والدمرحوم بھائی کو دیے ہوئے گھر کے علاوہ ایک گھر (عمارت) چھوڑ گئے ہیں، جسے ہم سب فروخت کرکے بیٹوں اور بیٹیوں میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ان کی تقسیم کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟
سائل کے والد مرحوم نے اگر اپنی صحت والی زندگی میں سائل کے مرحوم بھائی کو مذکورہ مکان باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدیا تھا، تو سائل کے مذکورمرحوم بھائی اپنی زندگی میں اس مکان کا مالک بن چکا تھا اور اس کی حیثیت چونکہ " ہبہ " کی تھی، اس لئے اس کی وجہ سے اس کے ورثاء اپنےوالدمرحوم کے توسط سے اپنے دادا کی میراث سے محروم نہ ہوں گے ، بلکہ دیگر چچاؤں اور پھوپھیوں کی طرح اس مرحوم بھائی کے ورثاء بھی اپنے شرعی حصہ کے حقدار ہوں گے ، البتہ اگر مرحوم کے ورثاء (یعنی سائل کے بھتیجے اور بھتیجیاں ) اپنے مرحوم والد کے توسط سے اپنے شرعی حصہ کے بقدر وصول کر چکے ہوں، تو اب ان کو چاہیئے کہ اپنا پورا حصہ لینے کے بجائے میراث میں سے تھوڑا بہت لیکر بقیہ حصہ سے دیگر ورثاء کے حق میں دستبردار ہوجائیں، مگرایسا کرنا ان پر لازم نہیں، جبکہ سائل کی جس بہن کا انتقال والدین کی وفات کے بعد ہوا ہے ، اس کو ملنے والا شرعی حصہ اس کے اپنے ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ (جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے) تقسیم ہوگا ، اور سائل کی مرحومہ بہن کے جس بیٹے کا اپنے بیوی کے ساتھ حادثہ میں انتقال ہوا ہے ،اگر اس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ میاں بیوی میں سے کس کا انتقال پہلے ہوا ہے، تو ایسی صورت میں اگرچہ وہ دونوں میاں بیوی باہم ایک دوسرے کے میراث میں حصہ دار نہ ہوں گے، البتہ ان کی بیٹی اپنے والدمرحوم کو اپنی والدہ(سائل کی بہن) کی طرف سے ملنے والے ترکہ میں سے حصہ شرعی کی حقدار ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکورہ مکان سمیت جو کچھ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو توبقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پرعمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سات سو چھپن(756) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو ایک سو چھبیس(126) حصے،اوراس کے ہر بیٹی کو تریسٹھ (63) حصے،اور ہر پوتے (یعنی سائل کے مرحوم بھائی کے بیٹوں) کو اٹھائیس(28) حصے، اس کی پوتی(یعنی سائل کے مرحوم بھائی کی بیٹی ) کو چودہ (14)حصے،اور اس کے ہر نواسے کو (یعنی سائل کےمرحومہ بہن کے بیٹوں) کو سولہ (16)حصے،اس کے ہر نواسی (مرحومہ بہن کی بیٹیوں) کو آٹھ(8) حصےجبکہ مرحوم کے نواسے کی بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں.
وفی الھندیۃ: أما تفسیرھا فھی تملیک عین بلا عوض کذا فی الکنز و أما رکنھا فقول الواھب و ھبت لأنہ تملیک و إنما یتم بالمالک وحدہ و القبول شرط ثبوت الملک للموھوب لہ۔إلخ( کتاب الھبۃ، الباب الأول فی تفسیر الھبۃ إلخ، ج: 4، ص: 374، ط: مکتبہ ماجدیۃ )۔
و فیھا أیضاً: و منھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض،الخ(کتاب الھبۃ،ج:4،374،:ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف إلخ(کتاب الصلح، فصل فی التخارج، ج: 5، ص: 542، ط: سعید)۔
وفی الدر أیضاً: (لا توارث بين الغرقى والحرقى إلا إذا علم ترتيب الموتى) فيرث المتأخر فلو جهل عينه أعطي كل باليقين ووقف المشكوك فيه حتى يتبين أو يصطلحوا شرح مجمع قلت: وأقره المصنف لكن نقل شيخنا عن ضوء السراج معزيا لمحمد أنه لو مات أحدهما ولا يدري أيهما هو يجعل كأنهما ماتا معا لتحقق التعارض بينهما وهو مخالف لما مر فتدبر (و) إذا لم يعلم ترتيبهم (يقسم مال كل منهم على ورثته الأحياء) إذ لا توارث بالشك إلخ(کتاب الفرائض، فصل في الغرقى والحرقى وغيرهم، ج: 6، ص: 798۔799، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0