کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک آدمی محمد انور پاشا کا انتقال ہو گیا، مرحوم نے ایک بیوہ مسماۃ نور زینب دو (2) بیٹے محمد خالد اور محمد اکبر اور چار(4) بیٹیاں چھوڑی ہیں، مرحوم کا ایک بھائی بھی موجود ہے، مرحوم نے ترکہ میں دو (2) گھر جن کی مالیت آج کے حساب سے تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ (16000000) روپے ہے، اور پانچ لاکھ (500000)روپے کے قریب کی مشینیں چھوڑی ہیں ، اب جواب طلب یہ ہےکہ اس ترکہ کو قرآن وحدیث کے مطابق کیسے تقسیم کیا جائے، تاکہ ہم قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہو جائیں
واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا، کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو، تو وہ ادا کریں۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل چونسٹھ (64) حصے بنائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو آٹھ (8) حصے ، مرحوم کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) حصے ، مرحوم کی ہر بیٹی کو سات (7) حصے دیدیں