السلام علیکم
میرے ابو نے گھر خریدا تھا کچھ پیسے خود ملاکر، اور کچھ میری امی کا سونا سیل کرکے لایا، اب میرے ابو کی وفات ہوگئی ہے، اور ہم گھر بیچنا چاہتے ہیں، ورثاء میں امی ہے، اور ہم تین بھائی اور ایک بہن ہے، اور ہمارا گھر تیس کروڑ کا ہے، فی حصہ کس طرح تقسیم ہوگا؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: سائل کے والد نے اپنی بیوی کو سونا خرید کر دیا تھا، اور باقاعدہ مالکانہ تصرفات کا اختیاربھی دیا تھا، اس کے بعد گھر خریدتے وقت سائل کی والدہ نے اپنی رضامندی سے قرض وغیرہ کی تصریح کیے بغیر سونا اپنے شوہر کو دیا تھا تاکہ اس کو بیچ کر گھر خرید سکیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ نے اگر واقعۃً شوہر کو اپنی خوش دلی و رضامندی کے ساتھ قرض وغیرہ کی تصریح کیے بغیر گھر خریدنے کے لیے سونا حوالہ کیا ہو، اور اب قرض وغیرہ کا دعوی بھی نہ کر رہی ہو، تو ایسی صورت میں سائل کی والدہ کا گھر خریدنے کے لیے اپنے شوہر کو مذکور سونا حوالہ کرنا اس کے ساتھ تبرع و احسان شمار ہوگا، اب سائل کے والد مرحوم کے انتقال کے بعد مذکور گھر سمیت مرحوم کا تمام ترکہ اس کے قریبی ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ(8) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو ایک(1) حصہ، اور بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو(2) حصے، اور بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے.
کما فی بدائع الصنائع : حکم الملک ولایہ التصرف للمالک فی المملوک باختیارہ لیس لاحد ولایۃ الجبر علیہ إلا لضرورۃ ولا لأحد ولایۃ المنع (الی قولہ) للمالک ان یتصرف فی ملکہ ای تصرف شاء الخ(کتاب الدعوی، فصل بیان حکم الملک والحق الثابت الخ، ج 6، ص 263، ط: سعید)۔
وفی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالایجاب والقبول وتتم بالقبض، صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالایجاب (إلی قولہ) وفی الدرر شرح الغرر قال الامام حمید الدین: رکن الھبۃ الایجاب فی حق الواھب، لأنہ تبرع فیتم من جھۃ المتبرع، أما فی حق الموھوب لہ فلا یتم إلا بالقبول، ثم لا ینفذ ملکہ فیہ إلا بالقبض الخ(الفصل الاول فی بیان المسائل المتعلقۃ برکن الھبۃ وقبضھا،المادۃ 837، ج3، ص 344، 345، ط: اسلامیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1