السلام علیکم ، مفتی صاحب ! میرے سسر کے انتقال کو 5 سال ہوچکے ہیں، لیکن میرے سسر جب حیات تھے، تو انہوں نے میرے شوہر کو کاروبار کی مد میں چار لاکھ روپے دیے تھے اور میری پھوپھی (ساس) جو کہ حیات ہیں، انہوں نے قرضے کے طور پر میرے شوہر کو تقریباً 10 لاکھ روپے دیے تھے، لیکن میری پھوپھی (ساس) نے ہم پر قرضہ معاف کردیا ہے، تو مفتی صاحب ! آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ میرے سسر کے انتقال کے بعد جو وراثت کی تقسیم میری نندوں اور میرے دیور نے کی ہے، اس میں سے (جو میرے سسر نے 4 لاکھ روپے جو کاروبار کی مد میں دیے تھے وہ اور میری پھوپھی (ساس) نے قرضے کے طور پر تقریباً 10 لاکھ روپے دیے تھے وہ جوکہ اُنہوں نے میرے شوہر پر قرضہ سب کے سامنے معاف کردیا ہے لیکن میرے دیور اور نندوں نے میرے شوہر کے حصے میں اپنی مرضی سے کاٹ کر دیے ہیں، جبکہ میرے سسر نے کبھی بھی کسی سے یہ نہیں کہا کہ وہ جو پیسے میرے شوہر کو کاروبار کی مد میں دیے ہیں، وہ وراثت کی تقسیم کے وقت کاٹ لیے جائیں میرے شوہر کے حصے میں سے اور نہ ہی میرے سسر کی کوئی وصیت موجود ہے، اور میری ساس کے انتقال کو تقریباً چھ سال ہوچکے ہیں، تو ان کا بھی زیور میری نندوں اور دیور نے رکھ لیا ہے، اور اس میں سے بھی میرے شوہر کو کچھ نہیں دیا ہے، تو آپ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ میرے سسرال والوں کا وراثت کی تقسیم کرنے کا یہ طریقہ شریعت کے مطابق جائز ہے یا نہیں ؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی بھی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کی ساس نے اپنے بیٹے (سائلہ کے شوہر) کو دس لاکھ روپے بطورِ قرض کے دیے ہوں، اور پھر سب کے سامنے اپنی صحت والی زندگی میں یہ قرض معاف بھی کر دیا ہو تو اس صورت میں سائلہ کی ساس کی وفات کے بعد اس کے ترکہ میں سے سائلہ کے دیور اور نندوں کا اپنے بھائی (سائلہ کے شوہر) کے حصہ سے مذکور رقم منہا کرنا شرعاً جائز نہیں، نیز ان کا والدہ کے ترکہ میں سے زیور پر اکیلے قبضہ کرکے سائلہ کے شوہر کو ان کے حصہ شرعی سے محروم کرنا بھی شرعاً درست نہیں، لہذا سائلہ کے دیور اور نندوں پر لازم ہے کہ اپنے بھائی (سائلہ کے شوہر) کو ان کے حصہ شرعی کے مطابق رقم ادا کریں، اسی طرح والدہ کے ترکہ میں شامل زیور بھی تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم کریں۔ جبکہ سائلہ کے سسر نے اگر چار لاکھ روپے قرض کی صراحت کے ساتھ اپنے بیٹے (سائلہ کے شوہر) کو کاروبار کے لئے دیے ہوں اور اپنی زندگی میں ان پیسوں کی معافی کا اعلان نہ کیا ہو، اگرچہ صراحتاً واپسی کا مطالبہ بھی نہ کیا ہو تو سائلہ کے دیور و نندوں کا اس رقم کو اس کے شوہر کے حصہ سے منہا کر کے تمام ورثاء کے درمیان ان کے حصصِ شرعی کے مطابق تقسیم کرنا جائز اور درست ہے، جس پر سائلہ یا اس کے شوہر کو اعتراض کا حق حاصل نہیں۔
کما فی سنن ابن ماجہ : و عن انس قال : قال رسول اللہ ﷺ : من فر من میراث وارثه قطع اللہ میراثه من الجنۃ یوم القیامۃ (باب الحیف فی الوصیۃ ، ص: 549 ، ط: البشری)۔
وفی الدر المختار : دفع لابنہ مالا لیتصرف فیہ ففعل و کثر ذلک فمات الاب ان اعطاہ ھبۃ فالکل لہ و الا فمیراث الخ
و فی رد المحتار : تحت : (قولہ و الا فمیراث) بان دفع الیہ لیعمل للاب (فروع) دفع دراھم الی رجل و قال : انفقھا ففعل فھو قرض و لو دفع الیہ ثوبا و قال البسہ نفسک ، فھو ھبۃ الخ (فصل فی مسائل متفرقۃ ، ج: 5 ، ص: 709 ، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ : هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسا واستحسانًا (الی قوله) ھبة الدين ممن عليه الدين وإبراءه يتم من غير قبول من المديون ويرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى، وهو المختار، كذا في جواهر الأخلاطي اھ (الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين، ج: 4 ، ص: 384 ، ط: ماجدیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0