میرا ایک سوال ہے۔ ہم تین بہن بھائی ہیں: دو بھائی اور ایک بہن۔ ہماری بہن کی شادی ہو چکی ہے۔ ہم تینوں نے عام تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی، یعنی مدرسے سے نہیں۔ میری بڑی بہن کو ہمارے والدین نے ایک نجی میڈیکل کالج میں داخل کروایا تھا۔ اس کے لیے 2020 میں ہماری ایک زمین کا ٹکڑا فروخت کرنا پڑا۔ میرے بڑے بھائی نے بھی نجی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جس کا خرچ والدین نے اٹھایا، لیکن اس کے لیے کوئی زمین فروخت نہیں کی گئی۔ نجی میڈیکل کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم کے اخراجات کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ میری بہن کی تعلیم پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ میرے بھائی کی تعلیم پر تقریباً 15 لاکھ روپے لگے۔ جبکہ میں نے سرکاری یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جس پر صرف 1 سے 2 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔اب سوال یہ ہے کہ والدین کے باقی ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟ جب زمین فروخت کی گئی تھی، تو میرے بھائی نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ اس وقت میں چھوٹا تھا، کچھ نہیں کہا۔ اب میں بھی اس پر اعتراض کرتا ہوں کہ اگر وہ زمین نہ بیچی جاتی، تو ہم سب کو اس میں وراثت میں حصہ ملتا۔ میرے مخصوص سوالات یہ ہیں:
(1) اگر تعلیمی اخراجات کو مدنظر رکھا جائے: بہن کی تعلیم کا خرچ: 30 لاکھ۔ بھائی کی تعلیم کا خرچ: 15 لاکھ۔ میری تعلیم کا خرچ: 1 لاکھ ، تو چونکہ تعلیم پر خرچ برابر نہیں ہوا، کیا مجھے والدین کی جائیداد سے اضافی 28–29 لاکھ بطور تلافی (compensation) ملنے چاہئیں؟ کیا میرے بھائی کو 15 لاکھ اضافی ملنے چاہئیں؟ اور کیا پھر باقی جائیداد کو یوں تقسیم کرنا درست ہوگا:- میرے بھائی کو 2/5 - مجھے 2/5 - اور بہن کو 1/5؟
(۲) اگر اس زمین کو مدنظر رکھا جائے جو بیچی گئی تھی: اگر وہ زمین فروخت نہ ہوتی، تو ہم تینوں کو اس میں وراثتی حصہ ملتا۔میری بہن کو 1/5 اور ہم دونوں بھائیوں کو 2/5۔ اب جبکہ وہ زمین فروخت ہو چکی ہے اور ساری رقم میری بہن کی تعلیم پر خرچ ہو گئی، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وراثت میں سے بہن کا حصہ اس زمین کی قیمت کے برابر کم کر دینا چاہیے؟ کیا ہمیں، دونوں بھائیوں کو، بطور معاوضہ (compensation) وراثت میں زیادہ حصہ ملنا چاہیے؟ اگر ہاں، تو یہ رقم کیسے حساب کی جائے؟ زمین 2020 میں 20 لاکھ روپے میں بیچی گئی تھی۔ اب 2025 میں وہی زمین 35 لاکھ روپے کی ہے۔ تو کیا ہم دونوں بھائیوں کو 20–20 لاکھ اضافی ملنے چاہئیں (یعنی کل 40 لاکھ)، یا 35–35 لاکھ (یعنی کل 70 لاکھ)؟ یہ حساب 2020 کی قیمت کے مطابق ہوگا یا 2025 کی قیمت کے مطابق؟
(۳) یا کیا اسے صرف تعلیمی خرچ سمجھا جائے؟ یعنی ہر فرد کی تعلیم پر جتنا خرچ ہو، وہ اس کی اپنی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے، اس لیے یہ ضروری نہیں کہ سب پر برابر خرچ ہو۔ اس صورت میں، اگر کسی پر زیادہ اور کسی پر کم خرچ ہوا، تو یہ فطری بات ہے اور اس کا وراثت کی تقسیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اگر تعلیمی اخراجات کو بنیاد بنایا جائے، تو اگر میں مستقبل میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جاؤں اور والدین کو اس کے لیے ساری جائیداد فروخت کرنی پڑے، تو اس صورت میں میرے بھائی اور بہن کے لیے تو کچھ بھی وراثت میں نہیں بچے گا۔
واضح ہو کہ وراثت کی تقسیم انتقال کے بعد ہی کی جاتی ہے، جبکہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے تمام ذاتی مال وجائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کرسکتا ہے، اگرچہ زندگی میں اولاد پر مال خرچ کرنے میں بلا وجہ کسی ایک بیٹے یابیٹی کو دوسروں پر فوقیت دینا ناپسندیدہ امر ہے، جس سے گریز کرنا چاہیے، البتہ اگر والد کسی معتبر عذر یا صحیح غرض کی بنا پر بعض اولاد پر زیادہ مال خرچ کرےتو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بہن بھائیوں کی تعلیم پر والد کی طرف سے جو خرچ کیا گیا، وہ ان کی ضرورت کے تحت تھا، اس لیے اس کو بنیاد بناکر مذکور بہن بھائی کے وراثتی حصہ سے ان اخراجات کو منہاکرنا یا جن بیٹے کی تعلیم پر اس قدر اخراجات نہ آئے ہوں تو اس کو اسی کے بقدر زائد دینے کا مطالبہ کرناشرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے، نیز اگر والد برضا و رغبت کسی بیٹے کے بیرون ملک تعلیم کے حصول کےلیے اخراجات برداشت کرنے پر آمادہ ہوتو شرعاً ا س کی گنجائش ہے، لیکن اس کو زبردستی اس پر مجبور کرنا جائز نہیں ہوگا۔
کما قال اللہ تعالی: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ الآیۃ (آیۃ:ـ90 سورۃ النحل)۔
و فی بدائع الصنائع: و ینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالی "إن االلہ یأمر بالعدل و الإحسان (إلی قولہ) و لأن فی التسویۃ تألیف القلوب و التفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی و لو نحل بعضاً و حرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لا حق لأحد فیہ إلخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127، ط سعید )-
و فی الدر المختار: یسوی بینھم یعطی البنت کالإبن عند الثانی و علیہ الفتوی إلخ
و فی الشامیہ تحت ( قولہ و علیہ الفتوی ) أی علی قول أبی یوسف: من أن التنصیف بین الذکر و الأنثی أفضل من التثلیث الذی ھو قول محمد رملی إلخ ( کتاب الھبۃ، ج 5، ص 696، ط سعید )-
و فی البحر: یکرہ تفضیل بعض الأولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ إلا لزیادۃ فضل لہ فی الدین و إن وھب مالہ کلہ لواحد جاز قضاءً و ھو آثم کذا فی المحیط إلخ ( کتاب الھبۃ، ج 7 ، ص 288، ط مکتبۃ الماجدیۃ )-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2