السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ہم نے ایک آن لائن ویب سائٹ بنائی ہے جس پر مختلف افراد، دکاندار اور برانڈز کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی آن لائن خرید و فروخت کے لیے اکاؤنٹ بنا کر ہماری ویب سائٹ کا پلیٹ فارم استعمال کریں۔
اکثر اوقات، مارکیٹنگ کے مقاصد کے لیے مصنوعات کے ساتھ ایسی تصاویر بھی لگائی جاتی ہیں جن میں خواتین ماڈلز کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے — جیسے کپڑوں، جیولری، کاسمیٹکس یا دیگر اشیاء کی تشہیر میں۔ یہ تصاویر صارفین یا برانڈز خود اپلوڈ کرتے ہیں، ویب سائٹ صرف ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
کیا ایسی تصاویر کی موجودگی اور تشہیر ہماری ویب سائٹ پر شرعاً ہمارے لیے جائز ہے؟
کیا اس طریقے سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعی اعتبار سے درست ہے؟
اگر اس معاملے میں کوئی حدود یا شرعی احتیاط لازم ہو تو برائے کرم راہنمائی فرما دیں۔
آپ کی رہنمائی کا منتظر رہوں گا۔
جزاکم اللہ خیراً
مارکیٹنگ کے لئے خواتین بالخصوص ماڈلز کی تصاویر استعمال کرنا متعدد شرعی خرابیوں کی وجہ سے جائز نہیں ،جن میں سے چند ایک یہ ہیں :۔
(1)۔خواتین کی تصاویر بے پردہ ہوتی ہیں ۔
(2)۔ بعض اوقات ستر کا بعض حصہ بھی کھلا ہوتا ہے ، جس کا کھولنا جائز نہیں ۔
(3)۔ایسی چیز یا کمپنی کا اشتہار ہوتا ہے جس کا کاروبار ہی جائز نہیں ۔
لہذ ا ان مفاسدپر مشتمل اشتہارات کی تشہیر کرنا جائز نہیں ۔البتہ جو اشتہار ان غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہوں ، مثلاً
(الف)......کسی ایسی کمپنی یا ادارےکے اشتہارات ہوں جس کااصل کام جائزہے۔
(ج) ......الیکٹرانک میڈیاپرنشر ہونے والےاشتہارات میں موسیقی شامل نہ ہو۔
(د) ......اشتہارات کسی بےپردہ خاتون کےساتھ نہ بنائےگئےہوں۔
(ہ)۔۔۔۔ جھوٹ غلط بیانی پر مشتمل نہ ہوں،تو ایسے اشتہارات کی مارکیٹنگ کی اجازت ہوگی۔
جہاں تک اشتہارات کے ذریعہ آمدنی کا تعلق ہےتو اگر آمدنی اشتہار ات کے لئے پلیٹ فارم مہیاکرنے کےعوض لی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ناجائز اشتہارات کے عوض حاصل ہونے والی آمدنی جائز نہیں ۔اور اگر پلیٹ فارم مہیا کرنے کا مقصد خر ید فروخت ہے تو ایسی صورت میں جائز اشیاء کی خرید و فروخت جائز ہے اور اس کے عوض حاصل شدہ آمدنی بھی حرام نہیں ،البتہ ناجائز اشتہار بنانے اور چلانے کا گناہ اپنی جگہ رہے گا۔
المبسوط للسرخسي - (16 / 38)
"ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو؛ لأنه معصية والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا، وكذلك الاستئجار على الحداء، وكذلك الاستئجار لقراءة الشعر؛ لأن هذا ليس من إجارة الناس والمعتبر في الإجارة عرف الناس."