السلام علیکم !کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تین بہنیں ایک بھائی ہیں، ہم سب ایک جھونپڑی میں رہتے تھے ، پھر ہمارے والد نے نو (9) نمبر میں ایک پلاٹ لیا ،اور اس کو تعمیر کیا اور ہم اس میں رہنے لگے ، والد صاحب نے جھونپڑی فروخت کر دی، ہم چار بہنوں اور تین پوتوں کی شادیاں کرائیں، ایک بہن کا انتقال ہو گیا، جب نو نمبر والے مکان پر چھت ڈالنے کے لئے پیسے کم پڑ گئے، تو والدصاحب نے لون لیا، اب ہمارے والد صاحب اس دنیا میں نہیں رہے، ہمارے بھائی نے اپنی بیماری کے ایام میں ہم سے کافی مرتبہ کہا کہ آپ لوگ اپنا حصہ لے لو ہم نے کہا کہ آپ ٹھیک ہو جائیں ، پھر دیکھتے ہیں اس بیماری میں بھائی کا انتقال ہو گیا، پھر بھا بھی اور بھتیجوں نے بھی یہی کہا کہ آپ لوگ اپنا حصہ لے لو اب ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارا اس میں کچھ حصہ ہے یا نہیں ؟
نوٹ : جس بہن کا انتقال ہوا تھا ،اس کے انتقال کے وقت والد صاحب اور والدہ بھی حیات تھیں، اس کے بعد والد صاحب کا انتقال ہوا والد صاحب کے انتقال کے وقت (ایک بیوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں حیات تھیں ) اس کے بعد بھائی نور الدین کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں ایک بیوہ( حمید النساء) چار بیٹے (جمال، کمال، اقبال، افضال) اور پانچ بیٹیاں (ریحانہ، رخسانہ ، فرزانہ ، رضوانہ، فاطمہ ) حیات تھیں، اور ایک بیٹے کا انتقال بھائی (نورالدین) کے حیات میں ہو ا تھا۔
واضح ہو کہ سائلہ کے والدین مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں حقوقِ متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی (کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور ایک تہائی (1/3) کی حد تک جائز وصیت پر عمل کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دو سو ساٹھ (260) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومین کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو (52) حصے، بہو کو (13) حصے ، ہر پوتے کو (14) حصے اور پوتیوں میں سے ہر ایک کو 7 حصے دیے جائیں ۔
(ملاحظہ ہو )- جس بہن مسماۃ شمس النساء کا اپنے والدین کی حیات میں انتقال ہوا وہ یا اس کی اولاد ترکہ میں حق دار نہیں۔