میں مسمی محمد اعظم غوری کراچی میں اور دیگر شہروں میں مختلف منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کا مالک ہوں، مگر اب اس جائیداد کو مجھ سے حاصل کرنے کے لئے میری بیوی اور اولاد مل کر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں، اور نہایت بد سلوکی سے کام لے رہے ہیں، لہذا اب میں اس جائیداد میں بعض حصہ تقسیم اور بعض کی وصیت کرنا چاہتا ہوں، جس میں اپنے دو بیٹوں مسمی دانیال غوری اور مسمی حماد غوری ، حماد کی بیوی مسماة امبر ، دو پوتیوں مسماۃ آیت اور عزہ کے درمیان اس تقسیم کو عمل میں لانا چاہتا ہوں، باقی بیوی مسماۃ ثمینہ اور بیٹی مسماۃ رمشاء کو اس میں کوئی حصہ دینا نہیں چاہتا ( وصیت نامہ منسلک ہے )۔ اب آپ حضرات سے یہ پوچھنا ہے کہ :
۱: کیا مذکور بالا طریقہ پر تقسیم جائیداد شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
۲: کیا میرا اپنی بیوی اور بیٹی کو اپنی جائیداد سے محروم کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
۳: میرے مذکورہ بالا اہل و عیال کا میرے ساتھ جو رویہ ہے اس کے بارے میں بھی شرعی رائے تحریر فرمائیں۔
نوٹ: میری چاہت یہ ہے کہ چھوٹے بیٹے دانیال کو وصیت کے مطابق اور وصیت نامہ میں درج شرط کی پاسداری کرتے ہوئے اس کا حصہ اپنی زندگی میں حوالہ کر دوں، جبکہ دوسرے بیٹے محمد حماد کے لئے جو وصیت نامہ میں تحریر کیا گیا، چونکہ میں بھی مذکور مکان میں ساتھ رہوں گا، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ وہ اس جائیداد کا حقدار میری وفات کے بعد ہو، لیکن اگر اس میں اس کے ساتھ دیگر ورثاء کا بھی وراثت کی رو سے حق بنتا ہو تو میں زندگی میں ہی دونوں کو ان کے حصے حوالہ کردوں گا، البتہ اس میں کچھ شرائط کا اضافہ کر دوں گا۔ شریعت کی روشنی میں اس کی بھی وضاحت فرمادیں۔
بشرطِ صدقِ سوال سائل کی بیوی اور بچوں کا سائل کے ساتھ مذکور رویہ انتہائی نامناسب اور شرعاً غلط اور نا جائز ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس رویہ کو درست کر کے سائل سے بھی دست بستہ معافی مانگیں، سائل کی بیوی بچے اگر سائل سے معافی مانگ کر اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں آجائیں تو بہتر ، ورنہ سائل ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کو اپنی جائیداد سے بھی محروم کر سکتا ہے ، جس کی تفصیل ذیل میں درج کی جارہی ہے، جبکہ سائل زندگی میں جس کسی کو جو کچھ دیکر اس کو اس پر باضابطہ مالک و قابض بنادیں گے وہ اس کا مالک بن جائے گا، مگر فقط کسی کے لیے وصیت کرنے سے سائل کی وفات کے بعد وہ اس کا مالک نہ ہو گا، اور وصیت وارث کے حق میں ہونے کی وجہ سے شرعاً نا فذ العمل بھی نہ ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، کسی شخص کا اس میں اپنی حصہ داری کا دعوی یا تقسیم جائیداد کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، لہذا سائل کی بیوی، بہو اور اس کی اولاد کا مذکور جائیداد کو تقسیم کرنے یا اس میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہے، البتہ اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی وخوش سے اپنامال وجائیداد وغیرہ اپنی اولادمیں تقسیم کرنا چاہتا ہوتو ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے اور یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ اور گٹ (Gift) کہلاتاہے ،جس کا بہتر اور افضل طریقہ یہ ہےکہ وہ ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہتا ہو، یاکسی کارِ خیر میں صرف کرنا چاہتا ہو یا اپنی بیوی کو کچھ دینا چاہتا ہو وہ رکھ کر بقیہ مال وجائیداد اپنی اولاد ( بیٹے ، بیٹیوں) کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کو فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دے، تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی تام اور درست ہو سکے، محض کاغذات میں نام کرنا دینا کافی نہیں، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء ( گفٹ) میں سب کو برابر ویکساں رکھے، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہے، تاہم اگر اولاد میں سےکسی کی خدمت گزاری یا دینداری کی بنا پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اُسے اختیار ہےاور جس کو محروم کرنا ہو اس کو بالکل نہ دے۔ مگر بلاوجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے۔
ففي سنن الترمذي: عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا أحدثكم بأكبر الكبائر؟» قالوا: بلى يا رسول الله، قال: «الإشراك بالله، وعقوق الوالدين»، قال: وجلس وكان متكئا، فقال: «وشهادة الزور، أو قول الزور»، فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت اھ (4/ 312)۔
و في الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع كذا في فتاوى قاضي خان وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية كذا في خزانة المفتين ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه كذا في الخلاصة ولو كان الولد مشتغلا بالعلم لا بالكسب فلا بأس بأن يفضله على غيره كذا في الملتقط اھ (4/ 391)۔
و في خلاصة الفتاوى: ولو اعطي لبعض ولده شيئا دون البعض لزيادة رشده لابأس به وان كانا سواء لا ينبغي ان يفضل اھ (۴/ ۴۰۰)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: ووجوب طاعتها له لقوله تعالى: {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة:228/ 2]، وقوله صلّى الله عليه وسلم: «لو كنت آمراً أحداً أن يسجد لأحد، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» (1) وقوله «أيما امرأة ماتت، وزوجها راض عنها، دخلت الجنة» (2) وقوله: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فأبت أن تجيء، فبات غضبان عليها، لعنتها الملائكة، حتى تصبح» اھ (9/ 6851)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2