احکام وراثت

مورث کی زندگی میں کسی وارث کا انتقال کرجانا

فتوی نمبر :
84581
| تاریخ :
2025-07-25
معاملات / ترکات / احکام وراثت

مورث کی زندگی میں کسی وارث کا انتقال کرجانا

السلام علیکم ،مفتی صاحب :ایک ماں کی ہمارے محلے میں ایک ذاتی بلڈنگ تھی جو کہ اس کو حکومت کی طرف سےپاکستان بننے کے بعد ملی تھی اور اس کے شوہرکا اس سے پہلے انتقال ہوگیا ہے ، اس کے تین بیٹے تھے، مسئلے کو سمجھنے کے لیے ان بیٹوں کے نام لکھ رہا ہوں، بڑے بیٹے کا نام باغ علی، اس سے چھوٹے بیٹے کا نام فقیر محمد، اور اس سے چھوٹے بیٹے کا نام سردار علی تھا، ماں اپنے بڑے بیٹے باغ علی کے ساتھ نیچے گراؤنڈ فلور پر دو کمرے تھے، اس میں رہتی تھی، اور سردار اور فقیر محمد کے تیسری منزل پہ ایک ایک کمرہ تھے، جن میں دونوں کی رہائش تھی، بیٹوں میں سے کسی کو بھی ملکیۃ ً نہیں دیا تھا۔
1979 میں فقیر محمد کا انتقال ہو گیا، اس کے ورثہ میں اس کی ماں جو اس وقت حیات تھی، اس کی بیوی اور اس کی ایک بچی تھی، فقیر محمد کے انتقال کے بعد بچی اور اس کی بیوہ اسی ایک کمرے کے گھر میں رہ رہی تھیں اور زیادہ تر یہ بچی اپنی نانی کے گھر جو فقیر محمد کا سسرال تھا، ماں اور بیٹی وہاں جا کر رہتی تھیں، لہٰذا فقیر محمد کے حصے کا مذکورہ بالا کمرہ اکثر خالی رہتا تھا، اس کمرے کو فقیر محمد کی بیوہ کبھی سسرال والوں کے اور کبھی اپنے بھانجے وغیرہ کے استعمال میں رکھتی تھی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ فقیر محمد کی جو اکلوتی بیٹی تھی اس کا بھی 1991 میں انتقال ہو گیا، اس وقت وہ شادی شدہ تھی اور اس کا شوہر زندہ ہے، اور ان کی ایک بچی بھی تھی، یعنی فقیر محمد کی نواسی، اب فقیر محمد کی بیوہ اور اس کی نواسی اس دنیا میں موجود تھی ، 2019 میں فقیر محمد کی بیوہ کا انتقال ہو گیا، فقیر محمد کی بیوہ نے اپنے دیور سردار کو اس کی ضرورت کے وقت 2016 میں اپنے حصے کا کمرہ کرائے پر دیا تھا، سردار 2024 تک باقاعدہ اُس کمرے کا کرایہ فقیر محمد کی نواسی کو ادا کرتا رہا، اب سردار کا کہنا یہ ہے کہ میرے بھائی فقیر محمد کا انتقال ہو گیا، اس کی بیوہ کا بھی انتقال ہو گیا، اور اس کی بیٹی کا بھی انتقال ہو گیا، اب اس گھر پر اس کی نواسی کا کوئی حق نہیں ہے تو شریعت کی رو سے آپ اس مسئلے کا حل بتائیں کہ واقعی فقیر محمد کی نواسی کا اُس کمرے پر کوئی حق ہے یا نہیں؟
اس وقت ماں کی جو بلڈنگ ہے اس میں باغ علی کے پاس تین کمرے ہیں، باغ علی کے بیٹوں نے اپنی ضرورت کے لیے کمرہ اوپر بنایا، سردار نے بھی ایک کمرہ اوپر بنایا اپنی ضرورت کے لیے، لہذا سردار کے پاس اپنے دو کمرے ہیں اور ایک فقیر محمد کے کمرے پر قبضہ کیا تو سردار کے پاس بھی تین کمرے ہیں۔
اب فقیر محمد کے ورثہ کے پاس کوئی چیز نہیں ہے، جو ایک کمرہ تھا، اس پہ سردار نے قبضہ کر کے کہہ دیا کہ یہ اب میرے بھائی کا ہے، اب ان کی نواسی کا کوئی حصہ نہیں ۔تو براہ کرم آپ شریعت کی رو سے ہماری رہنمائی فرمائیں،شکریہ ۔جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسئولہ صورت میں مذکوربلڈنگ اگر”ماں“ کی ذاتی ملکیت ہوتو وہ اپنی زندگی میں اس کی تنہامالک ومختار تھیں، لہذا مذکور بلڈنگ اُن کی وفات کے بعد ہی بوقت انتقال ان کے موجودورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہونی تھی، صرف زندگی میں اولاد کےاس بلڈنگ میں رہائش اختیار کرلینے سے یا کمرہ استعمال کرنے سے ملکیت منتقل نہیں ہوئی جب تک مالک (ماں) نےخود کسی بیٹےکووہ بلڈنگ بطورِ ملکیت دیکرباقاعدہ قبضہ وتصرف نہ دیدیاہو، جبکہ اولادمیں سے جومورث کی زندگی میں انتقال کرجائے وہ اوراس کی اولاد وراثت میں حصہ داربھی نہیں بنتے ،چنانچہ ”فقیر محمد “ کاانتقال (1979)اپنی والدہ کی حیات میں ہوگیا تھا تو وہ کمرہ ماں کی ہی ملکیت رہا،فقیر محمد کی بیوہ یا بیٹی کو اس کمرے میں رہائش کاحق ماں کی طرف سے بطورتبرع واحسان حاصل تھا،لہذا ماں کے انتقال تک توان کا مذکورکمرہ میں رہائش اختیار کرنا یا اس کو ماں کی اجازت سے کرایے پر دینا درست تھا ، لیکن جب ماں کا انتقال ہوگیا تو اس وقت حیات بیٹوں (باغ علی اور سردار علی) میں مرحومہ کا ترکہ بشمول مذکور بلڈنگ کے برابر تقسیم ہوگا،لہذا مرحومہ کے انتقال کے بعدفقیرمحمدکی بیوہ ،بیٹی یا نواسی میں سے کسی کابھی اس بلڈنگ میں حق کا دعوی شرعاًدرست نہیں ،جس سے احترازلازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: ھی علم بأصول من فقہ و حساب الخ
و فی الرد تحت( قولہ : ھی علم بأصول الخ ) ای قواعد و ضوابط تعرف( الی قولہ) وشروطہ ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ، أو حکما کمفقود أو تقدیرا کجینین فیہ غرۃ ، و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ أو تقدیرا کا الحمل و العلم بجھۃ ارثہ الخ کتاب الفرائض، ج 6، ط: ایچ ایم سعید )۔
وفی مجمع الضمانات: لا يجوز التصرف ‌في ‌مال ‌الغير ‌بلا ‌إذن، ولا دلالة الخ(باب في التصرف ‌في ‌مال ‌الغير ‌بلا ‌إذن، الباب العاشر في التصرف ‌في ‌مال ‌الغير ‌بلا ‌إذن، ص143،ط:دار الکتاب الاسلامی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84581کی تصدیق کریں
0     42
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 5
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات