السلام علیکم ،مفتی صاحب :ایک ماں کی ہمارے محلے میں ایک ذاتی بلڈنگ تھی جو کہ اس کو حکومت کی طرف سےپاکستان بننے کے بعد ملی تھی اور اس کے شوہرکا اس سے پہلے انتقال ہوگیا ہے ، اس کے تین بیٹے تھے، مسئلے کو سمجھنے کے لیے ان بیٹوں کے نام لکھ رہا ہوں، بڑے بیٹے کا نام باغ علی، اس سے چھوٹے بیٹے کا نام فقیر محمد، اور اس سے چھوٹے بیٹے کا نام سردار علی تھا، ماں اپنے بڑے بیٹے باغ علی کے ساتھ نیچے گراؤنڈ فلور پر دو کمرے تھے، اس میں رہتی تھی، اور سردار اور فقیر محمد کے تیسری منزل پہ ایک ایک کمرہ تھے، جن میں دونوں کی رہائش تھی، بیٹوں میں سے کسی کو بھی ملکیۃ ً نہیں دیا تھا۔
1979 میں فقیر محمد کا انتقال ہو گیا، اس کے ورثہ میں اس کی ماں جو اس وقت حیات تھی، اس کی بیوی اور اس کی ایک بچی تھی، فقیر محمد کے انتقال کے بعد بچی اور اس کی بیوہ اسی ایک کمرے کے گھر میں رہ رہی تھیں اور زیادہ تر یہ بچی اپنی نانی کے گھر جو فقیر محمد کا سسرال تھا، ماں اور بیٹی وہاں جا کر رہتی تھیں، لہٰذا فقیر محمد کے حصے کا مذکورہ بالا کمرہ اکثر خالی رہتا تھا، اس کمرے کو فقیر محمد کی بیوہ کبھی سسرال والوں کے اور کبھی اپنے بھانجے وغیرہ کے استعمال میں رکھتی تھی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ فقیر محمد کی جو اکلوتی بیٹی تھی اس کا بھی 1991 میں انتقال ہو گیا، اس وقت وہ شادی شدہ تھی اور اس کا شوہر زندہ ہے، اور ان کی ایک بچی بھی تھی، یعنی فقیر محمد کی نواسی، اب فقیر محمد کی بیوہ اور اس کی نواسی اس دنیا میں موجود تھی ، 2019 میں فقیر محمد کی بیوہ کا انتقال ہو گیا، فقیر محمد کی بیوہ نے اپنے دیور سردار کو اس کی ضرورت کے وقت 2016 میں اپنے حصے کا کمرہ کرائے پر دیا تھا، سردار 2024 تک باقاعدہ اُس کمرے کا کرایہ فقیر محمد کی نواسی کو ادا کرتا رہا، اب سردار کا کہنا یہ ہے کہ میرے بھائی فقیر محمد کا انتقال ہو گیا، اس کی بیوہ کا بھی انتقال ہو گیا، اور اس کی بیٹی کا بھی انتقال ہو گیا، اب اس گھر پر اس کی نواسی کا کوئی حق نہیں ہے تو شریعت کی رو سے آپ اس مسئلے کا حل بتائیں کہ واقعی فقیر محمد کی نواسی کا اُس کمرے پر کوئی حق ہے یا نہیں؟
اس وقت ماں کی جو بلڈنگ ہے اس میں باغ علی کے پاس تین کمرے ہیں، باغ علی کے بیٹوں نے اپنی ضرورت کے لیے کمرہ اوپر بنایا، سردار نے بھی ایک کمرہ اوپر بنایا اپنی ضرورت کے لیے، لہذا سردار کے پاس اپنے دو کمرے ہیں اور ایک فقیر محمد کے کمرے پر قبضہ کیا تو سردار کے پاس بھی تین کمرے ہیں۔
اب فقیر محمد کے ورثہ کے پاس کوئی چیز نہیں ہے، جو ایک کمرہ تھا، اس پہ سردار نے قبضہ کر کے کہہ دیا کہ یہ اب میرے بھائی کا ہے، اب ان کی نواسی کا کوئی حصہ نہیں ۔تو براہ کرم آپ شریعت کی رو سے ہماری رہنمائی فرمائیں،شکریہ ۔جزاک اللہ
مسئولہ صورت میں مذکوربلڈنگ اگر”ماں“ کی ذاتی ملکیت ہوتو وہ اپنی زندگی میں اس کی تنہامالک ومختار تھیں، لہذا مذکور بلڈنگ اُن کی وفات کے بعد ہی بوقت انتقال ان کے موجودورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہونی تھی، صرف زندگی میں اولاد کےاس بلڈنگ میں رہائش اختیار کرلینے سے یا کمرہ استعمال کرنے سے ملکیت منتقل نہیں ہوئی جب تک مالک (ماں) نےخود کسی بیٹےکووہ بلڈنگ بطورِ ملکیت دیکرباقاعدہ قبضہ وتصرف نہ دیدیاہو، جبکہ اولادمیں سے جومورث کی زندگی میں انتقال کرجائے وہ اوراس کی اولاد وراثت میں حصہ داربھی نہیں بنتے ،چنانچہ ”فقیر محمد “ کاانتقال (1979)اپنی والدہ کی حیات میں ہوگیا تھا تو وہ کمرہ ماں کی ہی ملکیت رہا،فقیر محمد کی بیوہ یا بیٹی کو اس کمرے میں رہائش کاحق ماں کی طرف سے بطورتبرع واحسان حاصل تھا،لہذا ماں کے انتقال تک توان کا مذکورکمرہ میں رہائش اختیار کرنا یا اس کو ماں کی اجازت سے کرایے پر دینا درست تھا ، لیکن جب ماں کا انتقال ہوگیا تو اس وقت حیات بیٹوں (باغ علی اور سردار علی) میں مرحومہ کا ترکہ بشمول مذکور بلڈنگ کے برابر تقسیم ہوگا،لہذا مرحومہ کے انتقال کے بعدفقیرمحمدکی بیوہ ،بیٹی یا نواسی میں سے کسی کابھی اس بلڈنگ میں حق کا دعوی شرعاًدرست نہیں ،جس سے احترازلازم ہے۔
کما فی الدر: ھی علم بأصول من فقہ و حساب الخ
و فی الرد تحت( قولہ : ھی علم بأصول الخ ) ای قواعد و ضوابط تعرف( الی قولہ) وشروطہ ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ، أو حکما کمفقود أو تقدیرا کجینین فیہ غرۃ ، و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ أو تقدیرا کا الحمل و العلم بجھۃ ارثہ الخ کتاب الفرائض، ج 6، ط: ایچ ایم سعید )۔
وفی مجمع الضمانات: لا يجوز التصرف في مال الغير بلا إذن، ولا دلالة الخ(باب في التصرف في مال الغير بلا إذن، الباب العاشر في التصرف في مال الغير بلا إذن، ص143،ط:دار الکتاب الاسلامی)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2