احکام وراثت

زندگی میں والد نے بیٹے کو مکان ہبہ کیا ،والد کی وفات کے بعد کیا وہ بیٹا میراث میں حقدار ہو گا؟

فتوی نمبر :
84538
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

زندگی میں والد نے بیٹے کو مکان ہبہ کیا ،والد کی وفات کے بعد کیا وہ بیٹا میراث میں حقدار ہو گا؟

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد مرحوم کا ایک مکان بفرزون میں تھا، انہوں نے اس کو بیچا، پھر چار بیٹوں میں سے ایک کو اس مکان کی قیمت میں بننے والا حصہ حوالے کر دیا، جس کی مقدار ایک لاکھ تریسٹھ ہزار روپے تھی، باقی رقم سے ایک مکان والد صاحب نے خریدا اور زبانی طور پر ہم تین بھائیوں کے نام کر دیا، تحریری طور پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی بہنوں کو کوئی حصہ دیا، بلکہ بہنوں کے لئے کچھ رقم علیحدہ کر کے رکھی تھی، مگر وہ میری شادی میں خرچ ہو گئی، ہم تینوں بھائی والدین کے ساتھ اس مکان میں رہتے رہے ، اس کے بعد والدہ کا انتقال ہوا، اور اس کے بعد میرے ساتھ پہلی منزل پر رہائش پذیر ایک بھائی کا انتقال ہوا, جس کی ایک بیوہ اور تین بیٹیاں ہیں، پھر دو ماہ قبل والد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا، اور وہ اس وقت اسی مکان میں رہائش پذیر تھے اور میرے ساتھ پہلی منزل پر رہائش پذیر تھے، جبکہ گراؤنڈ فلور پر دو بھائی تاحال رہتے ہیں، نیز یہ بھی واضح رہے کہ رہنے کے لحاظ سے یہ تقسیم والدین کے حکم سے ہی عمل میں آئی تھی، بہنوں کو ان کے مطالبہ پر والد مرحوم کا یہی جواب ہوتا تھا کہ یہ تین بھائیوں کا ہی ہے ، اگر حصہ لینا ہو تو میرے بعد ہی لینا۔
اب گذارش یہ ہے کہ درجِ ذیل سوالات کا جواب شریعت کی روشنی میں عنایت فرمائیں:
(ا): جس بھائی کو والد مرحوم نے مکان خریدنے سے پہلے جو حصہ دید یا تھا، کیا اس کا مذکور مکان میں مطالبہ کر ناشر عا جائز ہے ؟ اور کیا اس وقت حوالہ کی کئی رقم کی بنیاد پر وہ والد مرحوم کے ترکہ سے محروم شمار ہو گا یا نہیں؟
(۲): مذکور مکان کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ والد صاحب مرحوم کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں تین بیٹے، تین بیٹیاں تھیں ، اور کیا مرحوم بھائی کے ورثاء کا بھی ترکہ میں حصہ ہو گا یا نہیں ؟ اس کی بھی وضاحت فرمادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنے جس بیٹے کو پہلے مکان سے جو حصہ مالکانہ طور پر دیدیا تھا، تو وہ اس کے لئے والد کی طرف سے ہبہ اور عطیہ تھا، جس کا وہ مالک بن چکا ہے، جبکہ اس ہبہ اور گفٹ کی وجہ سے وہ اپنے حصۂ میراث سے محروم بھی نہ ہو گا، اِلاّ یہ کہ وہ خود اپنے حصہ میں سے کچھ لے کر بقیہ حصہ سے ورثاء کے حق میں دستبردار ہو جائے ،یا پھر تقسیمِ ترکہ کے بعد جب سب ورثاء کو اپنے حصے مل جائیں، تو اس وقت وہ اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد جس کسی کو دینا چاہے، تو اس کا اسے اختیار ہے، اور سائل کے والد مرحوم نے اگر بقیہ تین بھائیوں کو مذکور مکان مالکانہ حقوق و اختیار کے ساتھ ان کے قبضہ میں نہیں دیا تھا، جیسا کہ سوال سے واضح ہے تو صرف زبانی کہنے کی وجہ سے وہ اس مکان کے مالک نہیں بنے، بلکہ وہ مکان بدستور سائل کے والد مرحوم کی ملکیت میں رہ کر اب ان کے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح مذکور بھائی سمیت تمام ورثہ کے درمیان بقدرِ حصصِ شرعیہ مندرجہ ذیل طریقہ پر تقسیم ہو گا، البتہ سائل کے جس بھائی کا والد کی زندگی میں انتقال ہو چکا ہے ، اس کی اولاد کا اپنے دادا کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ البتہ اگر دیگر ورثاء مرحوم کی اولاد کو اپنے حصوں سے کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق سائل سمیت اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا، کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا چاندی ، زیورات ، نقد رقم ، اور ہر طرح کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کریں، اس کے بعد مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل نو (9) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو (2) حصے اور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث اھ (6/ 769)۔
وفي الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ (5/ 690)۔
و في رسائل ابن نجيم الاقتصادية: و في (البزازية) من (كتاب الدعوى) من (الرابع عشر) ولو قال : تركت حقى من الميراث او برئت منه أو من حصتى لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبرى لا يصح اسقاطه اهـ (ص: 453)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84538کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات