کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد مرحوم کا ایک مکان بفرزون میں تھا، انہوں نے اس کو بیچا، پھر چار بیٹوں میں سے ایک کو اس مکان کی قیمت میں بننے والا حصہ حوالے کر دیا، جس کی مقدار ایک لاکھ تریسٹھ ہزار روپے تھی، باقی رقم سے ایک مکان والد صاحب نے خریدا اور زبانی طور پر ہم تین بھائیوں کے نام کر دیا، تحریری طور پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی بہنوں کو کوئی حصہ دیا، بلکہ بہنوں کے لئے کچھ رقم علیحدہ کر کے رکھی تھی، مگر وہ میری شادی میں خرچ ہو گئی، ہم تینوں بھائی والدین کے ساتھ اس مکان میں رہتے رہے ، اس کے بعد والدہ کا انتقال ہوا، اور اس کے بعد میرے ساتھ پہلی منزل پر رہائش پذیر ایک بھائی کا انتقال ہوا, جس کی ایک بیوہ اور تین بیٹیاں ہیں، پھر دو ماہ قبل والد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا، اور وہ اس وقت اسی مکان میں رہائش پذیر تھے اور میرے ساتھ پہلی منزل پر رہائش پذیر تھے، جبکہ گراؤنڈ فلور پر دو بھائی تاحال رہتے ہیں، نیز یہ بھی واضح رہے کہ رہنے کے لحاظ سے یہ تقسیم والدین کے حکم سے ہی عمل میں آئی تھی، بہنوں کو ان کے مطالبہ پر والد مرحوم کا یہی جواب ہوتا تھا کہ یہ تین بھائیوں کا ہی ہے ، اگر حصہ لینا ہو تو میرے بعد ہی لینا۔
اب گذارش یہ ہے کہ درجِ ذیل سوالات کا جواب شریعت کی روشنی میں عنایت فرمائیں:
(ا): جس بھائی کو والد مرحوم نے مکان خریدنے سے پہلے جو حصہ دید یا تھا، کیا اس کا مذکور مکان میں مطالبہ کر ناشر عا جائز ہے ؟ اور کیا اس وقت حوالہ کی کئی رقم کی بنیاد پر وہ والد مرحوم کے ترکہ سے محروم شمار ہو گا یا نہیں؟
(۲): مذکور مکان کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ والد صاحب مرحوم کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں تین بیٹے، تین بیٹیاں تھیں ، اور کیا مرحوم بھائی کے ورثاء کا بھی ترکہ میں حصہ ہو گا یا نہیں ؟ اس کی بھی وضاحت فرمادیں۔
واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنے جس بیٹے کو پہلے مکان سے جو حصہ مالکانہ طور پر دیدیا تھا، تو وہ اس کے لئے والد کی طرف سے ہبہ اور عطیہ تھا، جس کا وہ مالک بن چکا ہے، جبکہ اس ہبہ اور گفٹ کی وجہ سے وہ اپنے حصۂ میراث سے محروم بھی نہ ہو گا، اِلاّ یہ کہ وہ خود اپنے حصہ میں سے کچھ لے کر بقیہ حصہ سے ورثاء کے حق میں دستبردار ہو جائے ،یا پھر تقسیمِ ترکہ کے بعد جب سب ورثاء کو اپنے حصے مل جائیں، تو اس وقت وہ اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد جس کسی کو دینا چاہے، تو اس کا اسے اختیار ہے، اور سائل کے والد مرحوم نے اگر بقیہ تین بھائیوں کو مذکور مکان مالکانہ حقوق و اختیار کے ساتھ ان کے قبضہ میں نہیں دیا تھا، جیسا کہ سوال سے واضح ہے تو صرف زبانی کہنے کی وجہ سے وہ اس مکان کے مالک نہیں بنے، بلکہ وہ مکان بدستور سائل کے والد مرحوم کی ملکیت میں رہ کر اب ان کے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح مذکور بھائی سمیت تمام ورثہ کے درمیان بقدرِ حصصِ شرعیہ مندرجہ ذیل طریقہ پر تقسیم ہو گا، البتہ سائل کے جس بھائی کا والد کی زندگی میں انتقال ہو چکا ہے ، اس کی اولاد کا اپنے دادا کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ البتہ اگر دیگر ورثاء مرحوم کی اولاد کو اپنے حصوں سے کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق سائل سمیت اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا، کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا چاندی ، زیورات ، نقد رقم ، اور ہر طرح کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کریں، اس کے بعد مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل نو (9) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو (2) حصے اور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث اھ (6/ 769)۔
وفي الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ (5/ 690)۔
و في رسائل ابن نجيم الاقتصادية: و في (البزازية) من (كتاب الدعوى) من (الرابع عشر) ولو قال : تركت حقى من الميراث او برئت منه أو من حصتى لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبرى لا يصح اسقاطه اهـ (ص: 453)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2