کیا ٹیوبلر احرام پہن کر عمرہ کر سکتے ہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔
آج کل یہ احرام مارکیٹ میں مل رہا ہے۔
احرام کی حالت میں مردوں کے لیے "سلا ہوا کپڑا" پہننا منع ہے، اور فقہاء نے "سلا ہوا کپڑا" سے مراد ایسا لباس لیا ہے جو انسانی اعضاء کی بناوٹ کے مطابق تیار کیا گیا ہو، جیسے قمیص، پاجامہ، بنیان وغیرہ۔چنانچہ احرام کے لیے مردوں کو غیر مُحیط اور غیر مُفصَّل کپڑا استعمال کرنے کا حکم ہے، یعنی ایسا کپڑا جو جسم یا اعضا کے مطابق تراشا اور سِیا نہ گیا ہو۔اس لیےمحرم کےاحرام کی لنگی ایسی ہونی چاہیے کہ اس کے دونوں کنارے (پاٹ) الگ الگ ہوں، یعنی وہ عام چادر یا کپڑے کی شکل میں ہو، جسے لپیٹا جاتا ہے۔
جبکہ مارکیٹ میں دستیاب "ٹیوبلر احرام "سلائی کے بغیر ایک ہی کپڑے کا گول سلنڈر نما" لنگی "کے مشابہ ٹکڑا ہوتاہے ،لہذااگر کسی کو احرام کی عام چادر پہننے میں ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، تو اس کے لیےمذکورہ ٹیوب نما احرام کی لنگی کےاستعمال کی گنجائش ہے،کیونکہ فقہاء کی تصریح کے مطابق یہ مُفَصَّل اور محیط کپڑوں میں شمارنہیں ہوتا، جو مردوں کے لیے حالتِ احرام میں ممنوع ہے۔
تاہم ، احتیاط کاتقاضا اور سنت کے مطابق بہتر یہی ہے کہ احرام کی لنگی عام چادر کی طرح ہو، جس کے دونوں کنارے الگ ہوں اور اسے لپیٹ کر باندھا جائے۔ بلا ضرورت پاٹ جُڑی ہوئی (ٹیوب نما) لنگی کا استعمال سے گریزچاہیے۔
کمافی صحيح لمسلم» : عن ابن عمر رضي الله عنهما « أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يلبس المحرم من الثياب؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تلبسوا القمص، ولا العمائم، ولا السراويلات، ولا البرانس، ولا الخفاف، إلا أحد لا يجد النعلين فليلبس الخفين، وليقطعهما أسفل من الكعبين، ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورس ».(4/ 2)
و فی شرح النووي على مسلم» :وأجمع العلماء على أنه لا يجوز للمحرم لبس شئ من هذه المذكورات وأنه نبه بالقميص والسراويل على جميع ما في معناهما وهو ما كان محيطا أو مخيطا معمولا على) قدر البدن أو قدر عضو منه كالجوشن والتبان والقفاز وغيرها ونبه صلى الله عليه وسلم بالعمائم والبرانس على كل ساتر للرأس مخيطا كان أو غيره حتى العصابة فإنها حرام فإن احتاج إليها لشجة أو صداع أو غيرهما شدها ولزمته الفدية ونبه صلى الله عليه وسلم بالخفاف على كل ساتر للرجل من مداس وجمجم وجورب وغيرها وهذا كله حكم الرجال۔(8/ 73)
و فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي : فإن زرره أو خلله أو عقده أساء ولا دم عليه
(قوله فإن زرره إلخ) وكذا لو شده بحبل ونحوه لشبهه حينئذ بالمخيط من جهة أنه لا يحتاج إلى حفظه۔(2/ 481)
و فی غينة الناسك: ( فصل في مکروهات الإحرام ومحظوراته التی لاجزاء فیها سوی الکراهة) وهی......عقد الإزار والرداء بأن یربط طرف احدهما بطرف الآخر و أن یخلله بخلال أو یشده بحبل ونحوہ".(ص:47، ط:دار رائدۃ في الطباعة والنشر)