السلام علیکم !میری بہن 2015 میں فوت ہوئی ہیں اور والد 2023 میں فوت ہوئے ہیں ، اور اب یہ وراثت میں نواسا نواسی کو بھی شرعی حق ملے ملنا چاہیے؟ اور اگر نہ ملے تو کوئی گناہ تو نہیں ہے؟
واضح ہو کہ جس بیٹی کا انتقال اپنے والد کی زندگی میں ہو جائے ، تو والد مرحوم کے ترکہ میں چھوڑی جانے والی جائیداد میں بیٹی کی اولاد یا شوہر کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا اور نہ ہی بیٹی کی اولاد کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے، لہذا سائل کی جو بہن والد کی زندگی میں انتقال کر گئی ہے اس کی اولاد اور شوہر کا سائل کے والد مرحوم کے ترکہ میں کوئی حق نہیں اور نہ وہ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں، البتہ اگر سائل اور دیگر عاقل بالغ ورثاء انہیں اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہیں تو انہیں اختیار ہے اور بلا شبہ باعث اجر و ثواب ہوگا، تاہم ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
کما فی رد المحتار: وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل الخ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 758، ط: سعید)۔
و فی ھامش مجمع الانھر: وشروطہ ثلاثۃ موت مورث حقیقۃ او حکماً کمفقود او تقدیراً کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیاً حقیقۃً او تقدیراً الخ (کتاب الفرائض، ج: 2، ص: 745، ط: دار احیاء التراث العربی)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0