السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ محترم مفتی صاحب!
میں ایک اہم وراثتی مسئلہ میں شرعی رہنمائی کی طالب ہوں۔ ہمارے والد محترم کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے پسماندگان درج ذیل ہیں: بیوہ (یعنی ہماری والدہ) حیات ہیں، چار بیٹیاں جن میں سے صرف ایک (یعنی میں) شادی شدہ ہوں، باقی تین غیر شادی شدہ ہیں ،کوئی بیٹا نہیں ہے ۔والد صاحب کی ملکیت میں درج ذیل اثاثہ جات شامل ہیں۔1۔ ایک رہائشی مکان جس میں ہم اس وقت رہائش پذیر ہیں 2۔دو عدد گاڑیاں جو گھریلو استعمال میں ہیں 3۔ کچھ نقد رقم جو والد صاحب نے بیٹیوں کی شادی کے لیے مخصوص کر رکھی تھی، اس کے علاوہ ایک اور مکان ہے جسے ہمارے والد صاحب نے اپنے بھائیوں (چاچاؤں) کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر خریدا تھا۔ خریداری کے وقت سب نے مل کر پیسے دیے تھے، اس لیے اس مکان میں ہمارے والد کا بھی حصہ ہے۔ تاہم کسی باہمی تنازع یا دیگر مسائل کی وجہ سے وہ مکان ابھی تک فروخت نہیں ہوا۔ ترکہ کے حساب سے ہمارے والد مرحوم کے حصے میں اس گھر سے پچاس گز زمین آتی تھی۔ ہم درج ذیل سوالات پر شرعی فتویٰ چاہتے ہیں: 1۔والد محترم کی مکمل جائیداد (مکان، گاڑیاں، شادی کے لیے رکھی گئی رقم، اور مشترکہ مکان میں اُن کا حصہ) کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟ 2۔کیا وہ رقم جو والد صاحب نے بیٹیوں کی شادی کے لیے رکھی تھی، وہ بھی وراثت میں شامل ہوگی یا اس کی کوئی الگ حیثیت ہے؟ 3۔والد صاحب نے کوئی تحریری یا زبانی وصیت نہیں چھوڑی ،ایسی صورت میں وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟ 4۔والد کے پانچ بھائی اور چار بہنیں (پھوپھیاں) تھیں ، جن میں سے ایک پھوپھی کا انتقال والد کی زندگی ہی میں ہو چکا تھا ،کیا ان سب کا وراثت میں کوئی حصہ ہے؟ 5۔ ہماری دادی (والد صاحب کی والدہ) کا انتقال والد کی زندگی میں ہو چکا تھا ،اس کا وراثت پر کوئی اثر ہوگا؟ 6۔ہم اس وقت والد کے ذاتی مکان میں رہ رہے ہیں اور گاڑیاں بھی استعمال کر رہے ہیں ،کیا شرعی طور پر وراثت کی تقسیم سے پہلے ان کا استعمال جائز ہے؟ 7۔وہ مکان جو والد اور ان کے بھائیوں نے مل کر خریدا تھا ، مگر والد کو ان کی زندگی میں نصیب نہ ہو سکا ، کیا اُس میں والد کا شرعی حصہ وراثت میں شمار ہوگا؟ اور اگر ہاں، تو اُس کا موجودہ شرعی حل کیا ہے؟ اگر نہیں تو کیا وہ گھر فروخت ہونے کے بعد بیوہ اور اولاد کو اتنا ہی ملے گا جتنا والد کا بنتا ہے؟ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل اور واضح فتویٰ مرحمت فرما دیں ، تاکہ ہم والد مرحوم کی میراث کو شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کر سکیں اور کسی حق دار کا حق ضائع نہ ہو۔ جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسؤلہ میں مرحوم کی نرینہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ورثاء میں بیوہ، بیٹیوں کےعلاوہ وہ سگے بہن بھائی بھی وارث بنیں گے جومرحوم کے انتقال کے وقت زندہ تھے،البتہ مرحوم کی جس بہن کا انتقال ان کی زندگی میں ہوگیاتھا ، وہ اور اس کی اولاد شرعاًمرحوم کے ترکہ میں حصہ دار نہیں بنے گی،نیزمرحوم کی والدہ کاانتقال بھی چونکہ ان کی زندگی میں ہوگیاتھااس لیے ان کی وجہ سے بھی تقسیم میراث پرکوئی اثرنہیں پڑے گا، کیونکہ میت کی زندگی میں انتقال کر جانے والے افرادیاان کی اولادیں اس کے ترکہ میں حصہ وارث نہیں بنتی ہیں۔لہٰذا سائلہ کے والدِ مرحوم نے بوقت انتقال جو بھی منقولہ و غیر منقولہ مال وجائیداد چھوڑی ہے، مثلاً رہائشی مکان،دونوں گاڑیاں ،شادی کے لئے رکھی گئی رقم اوربھائیوں کے ساتھ مشترکہ مکان میں مرحوم کا حصہ، یہ تمام چیزیں مرحوم کاترکہ شمار ہوں گی۔ ان میں مرحوم کے تمام شرعی ورثاء(بیوہ ،بیٹیاں ،اورموجودبہن،بھائی )حسب ِحصص شرعیہ شریک ہوں گے، جیسا کہ تفصیل آگے بیان ہوگی۔تاہم بیٹیوں کی شادی کے لئے مخصوص کی ہوئی رقم اگر ہبہ (گفٹ) کے طور پر بیٹیوں کوقبضہ کے ساتھ دیدی گئی ہو تو وہ ان کی ملکیت ہے، جس کواب ترکہ میں شامل نہیں کیاجائے گا۔ جبکہ تقسیم میراث سے پہلے چونکہ تمام چیزیں ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہیں،لہذاکسی ایک یابعض ورثاءکاکسی مشترکہ چیز(مثلاً مکان، گاڑی یا نقد رقم) کو دیگر ورثاء کی اجازت و رضامندی کے بغیراپنے زیر استعمال رکھناجائزنہیں ہے ،جس سے احترازلازم ہے، تاہم اگرتمام ورثاء عاقل ،بالغ ہوں اوروہ اپنی مرضی وخوشی سے اجازت دے دیں تو اس صورت میں شرعااس کے استعمال کی گنجائش ہوگی ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اگر مرحوم نے واقعۃً کوئی زبانی یا تحریری وصیت نہ کی ہو تو بقیہ تمام ترکہ کے کل تین سوبارہ (312) حصے بنائے جائیں، جس میں سے مرحوم کی بیوہ کو انتالیس (39) حصے، ہر ایک بیٹی کو باون (52) حصے، ہر ایک بھائی کو دس (10) حصے، اور ہر ایک بہن کو پانچ (5)حصے دیے جائیں.
و فی الھندیۃ: فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم إلخ۔(باب الثالث فی العصبات، ج 6، ص 451، ط:دار الفکر)۔
و فی الدر المختار: لو واحد من الشریکین سکن فی الدار مدۃ مضت من الزمن فلیس للشریک أن یطالبہ بأجرۃ السکنی و لا المطالبۃ بأنہ یسکن من الأول لکنہ إن کان فی المستقبل یطلب أن یھایئ الشریک ایجابا إلخ۔ (فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ، ج 4، ص 337، ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2