محترم! مجھے آپ سے رہنمائی قرآن وحدیث کی روشنی میں درکار ہے، وہ یہ ہے کہ میرا بیٹا 2025/7/8 کو رضائے الہی سے انتقال کرگیا، سوگواران میں والد ،دو بھائی، دو بہنیں اور بیوہ ہیں، اولاد نہیں ہے، لیکن دو بچے کسی سے لے کر پالے تھے، مرحوم کا ترکہ مذکورہ بالا ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا، نیز مرحوم ایک کمپنی میں کام کرتاتھا، کمپنی کی طرف سے ملنے والی رقم مرحو م کا ترکہ کہلائے گا یا نہیں؟ یا کمپنی جس کےنام وہ رقم نامزد کردے وہی اس کا مالک ہوگا؟
نوٹ: کمپنی کی طرف سے مرحوم کو جو فنڈ ملنا ہے، اس میں تنخواہ، گریجویٹی اور پاک قطر تکافل پالیسی کی رقم شامل ہے۔معلوم کرنے بعد سائل نے بتایا کہ کمپنی اپنی خرچ پر گروپ تکافل پالیسی لیتی ہے، جو ملازمین کے لئے ہوتی ہے۔
واضح ہو کہ گریجویٹی کے نام سے جو رقم ملتی ہے، وہ عام طور پرادارہ کی طرف سے مرحوم کے زیر کفالت افراد کے ساتھ تعاون اور تبرع ہوتاہے،چنانچہ یہ رقم اگر بغیر کسی تعیین کے دی جائے تو مرحوم کے تمام ورثاء اس میں برابر کے شریک ہونگے اور اگر ادارہ اپنے ضابطہ کے مطابق کسی ایک کو نامزد کردے تو اس رقم کا وہی حقدار ہوگا،دیگر ورثاء کااس میں کوئی حق نہ ہوگا، اسی طرح اگر کمپنی نےاپنے ملازمین کے لئے پا ک قطر فیملی تکافل کی گروپ پالیسی لی ہو، اور اس کے تمام اخراجات خود برداشت کیے ہوں ، ملازمین کی تنخواہ سے رقم نہ کاٹی گئی ہو ، توایسی صورت میں ملازم کے انتقال کے بعد ملنے والی رقم عطیہ کے حکم میں ہے ، چنانچہ یہ رقم اگر بغیر کسی تعیین کے دی جائے تو مرحوم کے تمام ورثاء اس میں برابر کے شریک ہونگے اور اگر ادارہ اپنے ضابطہ کے مطابق کسی ایک کو نامزد کردے تو اس رقم کا وہی حقدار ہوگا،دیگر ورثاء کااس میں کوئی حق نہ ہوگا، البتہ سائل کے مرحوم بیٹے کی تنخواہ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا،اور مرحوم کے تمام ورثاء پر اصول میراث کے مطابق تقسیم کیا جائیگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصول ِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل چار( 4) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو ایک حصہ، اور مرحوم کے والد کو تین حصے دیے جائیں، جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہےاور مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔جبکہ والد کی موجودگی میں بھائیوں اور بہنوں کو حصہ نہیں ملتا۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0