سوال یہ ہے کہ میرے چار لڑکے تھے ، جن میں تین اب زندہ ہیں ،ایک وفات پا چکا ہے، جس کا نام خلیل تھا، 2002ء میں ہم سب شریک رہتے تھے ، سب کھانا پینا شریک تھا، میری بہو نے ۔14/ 4/ 2005 کو الگ رہنے کا فیصلہ کیا،اور جدائی کا مطالبہ کیا ، اس وقت ہمارے پاس 3 مکان اتحاد ٹاؤن اللہ داد کالونی میں تھے ، اور ہر مکان قابل تقسیم ہے، ایک کھیت جو کہ گاؤں میں ہے ،تمام جائیداد میں ہم نے ایک حصہ اپنا رکھا ایک حصہ میرے بیوی کا اور ایک ایک حصہ چار بھائیوں کا جو کہ چھ حصے بنتے ہیں ، کراچی کے تین مکان ہر حصہ دار کا آدھا مکان آیا ، کھیت میں ہر ایک کا حصہ آیا، جو کہ مرحوم کے بچوں کو حوالہ کیا، اب میرا بہو آدھے حصہ پر راضی نہیں، مزید مانگتی ہے، کیا وہ اپنے حصے سے زیادہ کا حق رکھتی ہے، اگر نہیں تو وضاحت کیجئے ہم ماں باپ دونوں زندہ ہے،
دوسراسوال مرحوم کا فنڈ سعودی عرب سے ملا ستر ہزار (70000) روپے تھا، جس کو وصول کرنے کے لئے کیس کرنا پڑا، کیس پر 16153 روپیہ خرچہ ہوا، جو کہ ثبوت موجود ہے، ستر ہزار روپے میں سے میری بہو کو 7333 روپے آٹھواں حصہ ملا بینک سے۔ باقی رقم 3 لڑکے 2 لڑکیوں کے نام نیشنل بنک ڈگر بونیر میں منجمد ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ ہر بالغ اپنے شناختی کارڈ پر اپنا حصہ رقم بینک سے نکلوا سکتا ہے ، اب میری بہو میرے کیس کا خرچہ دینے کو تیار نہیں ۔ اگر چہ 7000روپیہ میں نہ میرا اور نہ میرے بیوی کا کوئی حصہ ہے۔ جدائی 14/ ۴/ 2005 کو ہوا ہے ۔ اب ہم سب کا حساب الگ ہے۔ ہر ایک حقدار اپنے حصے کا مالک ہے۔ جدائی سے لے کر آج تک میری بہو اور بچے اس مکان میں رہتے ہیں، جس میں میرا حصہ ان کے ساتھ آیا ہے۔ نہ کرایہ دیتی ہے میرے حصے کا نہ حق تسلیم کرتی ہے ۔ نہ مکان خالی کرنے کو تیار ہے ۔ جدائی سے لیکر آج تک اس مکان میں رہ رہے ہیں جس میں میرا بھی حصہ ہے ، حق مزید مانگتی ہے۔ 6 سال تک اس مکان میں رہے، نہ حق تسلیم کرتی ہے، نہ کرایہ دیتی ہے۔ نہ مکان خالی کرتی ہے ۔ برائے کرم تفصیل سے بتلائیے اور فتویٰ جاری کریں ۔
(۱) حصہ والد، (۲) حصہ والدہ، (۳) حصہ سید زادہ لڑکا، (۴) حصہ خلیل مرحوم لڑکا، (۵) حصہ صادق لڑکا، (۶) حصہ قاسم لڑکا،
ٹوٹ : مذکور تقسیم مرحوم بیٹے (مسمیٰ خلیل) کے انتقال کے بعد صرف بیوہ کے مطالبہ پرگاؤں کے جرگے نے مسئلہ شرعی معلوم کیے بغیر میری حیات میں ہی کی، جبکہ مرحوم کا کوئی ترکہ نہ تھا اور اس تقسیم پر مجھ سمیت تمام حصہ دار راضی ہیں مگر بیوہ اپنے حصہ پر راضی نہیں ہے، میرے حصے پر قابض ہونے کے ساتھ باقی دو مکانوں میں بھی مزید حصہ مانگ رہی ہے ۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہے، اور سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے، اس لئے بصورتِ صحتِ سوال واضح ہو کہ ہر آدمی اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا خود مالک ہوتا ہے، کسی دوسرے کو اس میں حصہ داری کا دعویٰ کرنے ، تصرف کرنے اور تقسیم کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا، بیوہ کا مذکور تقسیم کا مطالبہ کرنا اور جرگہ کے ذریعے مجبور کرنا سراسر نا جائز تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہگار ہوئی ہے ،اس پر بصدقِ دل و ندامت توبہ استغفار لازم ہے، تاہم جب اس مطالبہ کی وجہ سے مذکور تقسیم ہو گئی، تو یہ سائل کی طرف سے اپنے حصہ دار بیٹوں اور مرحوم کی بیوہ پر محض ہبہ اور گفٹ تھا، جس میں حصہ داروں کے مالک ہونے کے لئے اپنی ملک سے الگ کر کے مالکا نہ قبضہ دینا ضروری ہے ،جو مذکور صورت میں مشاع ہونے کی وجہ سے مفقود ہے، اس لئے بہو کے پاس موجود مکان بدستور سائل کی ملک ہے، اور وہ اسے بے دخل بھی کر سکتا ہے، تاہم اپنے مرحوم بیٹے کی بیوہ اور اولاد ہونے کی وجہ سے اگر سائل ان کا حصہ الگ سے متعین کر کے دیدے ،تو یہ اس کی طرف سے تبرّع و احسان ہے، اور اسے ایسا ہی کرنا چاہیے، مگر بیوہ کا حصہ ملنے کے بعد اسے بلا وجہ پریشان کرنا اور اس کے ذاتی مکان پر قابض ہو کر اس کے مال میں سے مزید مطالبات کرنا قطعاً درست نہیں، اسے چاہیئے کہ بلا وجہ اپنے محسن کو پریشان کر کے اپنی آخرت برباد نہ کرے، جبکہ مرحوم بیٹے کی وفات پر سعودیہ سے ملنے والی رقم اگر بیوہ بچوں سمیت والدین کے لئے بھی ہو تو سائل اور اس کی بیوی اس میں حصہ دار ہیں ورنہ نہیں، اسی طرح سائل نے اس فنڈ کے حصول پر جو اخراجات برداشت کیے ،وہ اگر واپسی کی غرض اور قرض کی نیت سے تھے تو سائل اس کے لینے کا حق دار ہے، ورنہ یہ اس کی طرف سے تبرّع واحسان کہلائے گا جن کی واپسی کا اسے حق نہیں۔
ففي مشكاة المصابيح: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)۔
و في شرح المجلة : الماده ۱۱۹۲۰ كل يتصرف في ملكه کیف شاء اھ (۴/ ۱۳۲) ۔
و في الدر المختار: هـ لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته اھ (6/ 200)
وفيه ايضا : (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) (إلی قوله) (ولو سلمه شائعا لا يملكه فلا ينفذ تصرفه فيه) اھ (5/ 692)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2