کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں، میرے شوہر نے اپنی زندگی میں ہی اپنی دونوں بیٹوں کو اپنی وراثت میں سے عاق کر دیا تھا، اور اپنی دونوں بیٹیوں کے نام گفٹ (GIFT) کے طور پر گھر دیا تھا، میرے دونوں بیٹے والد کی زندگی میں بھی مجھے ایک روپیہ نہیں دیتے تھے ، اور نہ اب وہ مجھے پیسے وغیر ہ دیتے ہیں ، اور نہ میری بیماری ی پر خرچ کرتے ہیں ، اب میرے دونوں بیٹے مجھ سے وراثت میں حصہ مانگ رہے ہیں ، اس لیے مجھے شریعت کی روشنی میں ایک فیصلہ کرنا ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ حضرات مجھے ضر در جلد از جلد فتویٰ عنایت فرمائیں گے۔
نوٹ: سائلہ مسماۃ (لاڈلی) نے زبانی بتایا کہ بیٹے اپنے باپ (میرے مرحوم شوہر ) کے ترکہ میں چھوڑے ہوئے مکان میں حصہ مانگ رہے ہیں، اور مزید بتایا کہ مرحوم نے اپنی دونوں بیٹیوں (شبانہ اور ناہیدہ) کے نام گفٹ کے کاغذات بنوائے تھے، جبکہ تاحیات وہ خود اپنے بچوں کے ساتھ اس مکان میں رہائش پذیر رہے، اور دونوں کواپنی زندگی میں تقریبا پندرہ بیس سال قبل بیاہ دیا تھا، اور مرحوم کے انتقال کو ایک ڈیڑھ سال ہوا ہے، برائے مہربانی مجھے فتوی عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ فقط کوئی چیز کسی کے نام کر دینے سے شرعاًوہ اس کی ملک نہیں بنتی ، جب تک اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ طور پر قبضہ نہ دیا جائے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر نے مذکور مکان اگر فقط سائلہ کی بیٹیوں کے نام کر دیا تھا، اور انہیں اس مکان پر با قاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دیا تھا، (جیسا کہ سوال سے واضح ہو رہا ہے) تو شرعاً سائلہ کی بیٹیاں مذکور مکان کی مالک نہیں بنیں، بلکہ مذکور مکان مرحوم کی وفات تک اس کی ملکیت میں رہ کر ان کے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہو گا۔ نیز فقط عاق نامہ لکھنے سے کوئی بیٹا، یا بیٹی والد کی جائیداد سے شرعاً محروم نہیں ہوتے، لہذا سوال کے ساتھ منسلکہ عاق نامہ تحریر کرنے کے باوجود سائلہ کے بیٹے اپنے مرحوم والد کے ترکہ سے محروم نہ ہونگے ، بلکہ وہ شرعا حصہ دار ہونگے ، مگر سائلہ کے بیٹوں کا اپنی والدہ کے ساتھ سوال میں مذکور طرز عمل اختیار کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا شرعا نا جائز اور حرام ہے ، جس احتراز لازم ہے ۔
کما فی الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى اھ (4/ 391)
و في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) (5/ 690) واللہ اعلم بالصواب!
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: هو الإيجاب) و في خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري. (5/ 688)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2