کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدصاحب کا انتقال ہو چکا ہے، جن کے ورثاء میں ایک بیوہ ،تین بیٹے اور آٹھ بیٹیاں موجود ہیں،مرحوم کے ترکہ میں پچپن لاکھ(5500000) روپے ہیں ،مذکوررقم ورثاء کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے مجموعی ترکہ میں سے حقوق ِ متقدِّمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں، اور بیوہ کے حق مہر کی ادائیگی،اگر انہوں نے ادا یا معاف نہ کیا ہو ، اور ایک تہائی (1/3) کی حد تک جائز وصیت پر عمل) کے بعد ،اگر یہی رقم (یعنی پچپن لاکھ روپے بچتی ہوتو مذکور رقم میں سے بیوہ اور ہر بیٹے کو چھ لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو(687500) روپے، جبکہ ہر بیٹی کو تین لاکھ تریالیس ہزار سات سو پچاس (343750) روپے دیے جائیں۔