میں ایک گورنمنٹ افسر ہوں، کئی رکاوٹیں ہونے کی وجہ سے کرپشن نہیں روک سکتا، نہ نظام ٹھیک کرسکتا ہوں تو کچھ نہ کچھ کمیشن وغیرہ کارواج محکموں میں ہوتا ہے، وہ رقم میں دفاتر کے امور یا کسی رفاہ عامہ کے کام میں خرچ کر دیتا ہوں، کیا یہ ٹھیک ہے؟ اور مجھے اپنے ذاتی استعمال کے لئے رقم چاہیے، لیکن بینک سے بلا سود قرضے نہیں ملتے، کیا میں اس رقم کو ماہانہ قسط میں متعین کر کے اپنے استعمال میں لا سکتا ہوں؟
واضح ہوکہ کسی سرکاری افسر کے لیےکمیشن، رشوت، یا کسی بھی ایسے مال کا لینا جو منصب کا ناجائز فائدہ اٹھا کر حاصل ہو،شرعاًناجائزاورحرام ہے، خواہ یہ مال ذاتی استعمال میں لایا جائے یا دفتری/رفاہی کاموں میں صرف کیا جائے، بہردوصورت اس کی حرمت پرکوئی فرق نہیں پڑے گا،لہذا سائل کو اس سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ تعالٰی: وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 177)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: و الرشوۃ تنقسم إلی و جوہ منھا الرشوۃ فی الحکم و ذلک محرم علی الراشی و المرتشی جمیعاً و ھو الذی قال فیہ النبیﷺ لعن اللہ الراشی و المرتشی و الرأش و ھو الذی یمشی بینھما فذلک لا یخلو من ان یرشوہ لیفض لہ بحقہ او بما لیس بحق لہ الخ (باب الرشوۃ ج: 2 ص: 433،ط:سھیل اکیڈمی)۔
وفی سنن أبی داؤد: عن أبي سلمة عن عبد الله بن عمرو،قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي الخ(کتاب الأقضیة، باب في کراهیة الرشوة،ج: 2، ص: 300، رقم الحدیث: 3580،ط: البشرٰی)۔
وفی الدر المختار : الحرمۃ تتعدد مع العلم بہا الا فی حق الوارث وقیدہ فی الظہیرۃ بان لا یعلم ارباب الاموال الخ
وفی رد المحتار: تحت : (قوله الا فی حق الوارث الخ) (الی قوله) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه الخ (باب البیع الفاسد ، ج: 5 ، ص: 98 ، ط: سعيد)۔
وفی البحر الرائق: و منھا اذا دفع الرشوۃ خوفاً علی نفسہ او مالہ فھو حرام علی الآخذ غیر حرام علی الدافع و کذا اذا طمع فی مالہ فرشاہ ببعض المال و منھا اذا دفع الرشوۃ لیسوی أمرہ عند السلطان حل لہ الدفع و لا یحل للآخذ أن یأخذ الخ (باب اخذ الرشوۃ، ج: 6، ص: 262، ط: ماجدیہ)۔