احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم

فتوی نمبر :
83276
| تاریخ :
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم

محترم مفتی صاحب دار الافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی،السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
عرض ہے کہ میرے والد (مرحوم) نے اپنی زندگی میں تین شادیاں کیں تھی،پہلی بیوی سے 5 اولاد ہیں ،(تین بیٹے اور دو بیٹیاں) جنہیں 2010ء میں طلاق دے دی گئی تھی،
دوسری بیوی 8 سال تک والد صاحب کے ساتھ رہی، ان کا انتقال والد صاحب کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، وہ کچھ جہیز کا سامان لائی تھیں ،اور کچھ سامان والد صاحب نے خریداتھا،ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
تیسری بیوی سے ایک بیٹی ( عمر تقریباً دو سال ) ہے، ان کے پہلے شوہر سے بھی دوبچے ہیں، وہ بغیر جہیز کے آئیں،تینوں بیویوں کا حقِ مہر طے تھا ،لیکن کسی کو بھی دیا نہیں ہے،اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے،ان کے زیرِ استعمال سامان و دیگر متروکہ اشیاء کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے:
(1):ترکہ کی تقسیم شرعی اصولوں کے مطابق کیسے ہوگی ؟
(2):پہلی اور دوسری بیوی یا ان کی اولاد کا ترکہ میں کیا حق ہو گا؟
(3):مرحومہ بیوی کے جہیزکا کیا حکم ہے؟
(4):ترکہ میں سے حقِ مہر کو ادا کیا جائے گایا نہیں ؟
قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں سائل کے والدِ مرحوم کی جس بیوی کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، یا جس بیوی کوانہوں نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی تھی ، وہ دونوں اپنے شوہر کی میراث میں شرعاً حصہ دار نہ ہوں گی ،اور نہ ہی مطلقہ بیوی حصہ میراث کا مطالبہ کرسکتی ہے، البتہ مطلقہ بیوی سے سائل کے والدِ مرحوم کی جو اولاد ہوئی ہے ،وہ اپنے والدِ مرحوم کے ترکہ میں حسبِ ضابطۂ شرعیہ حصہ دار ہوں گے ، (جس کی تقسیم کاطریقہ کار درج ذیل آرہا ہے)۔
جبکہ سائل کے والدِمرحوم کی وہ بیوی جس کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، مرحومہ کو شادی کے موقع پر اس کے گھر والوں کی جانب سے جو جہیز، تحائف اوردیگر سامان وغیرہ بطورِ ملکیت دیا گیا تھا، اسی طرح جو زیورات وغیرہ شوہر اور اس کے والدین کی طرف سے بطورِ ہدیہ باضابطہ مالک و قابض بنا کر دیا گیا تھا ، وہ اپنی زندگی میں اس کی مالک بنی تھی ، اور اب اس کے انتقال کے بعد یہ تمام چیزیں مرحومہ کا ترکہ شمار ہوکر اس کے شرعی ورثاء میں حسبِ ضابطۂ شرعیہ تقسیم ہوگا ،جس کا طریقہ ورثاء کی تفصیل بیان کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح سائل کے والدِ مرحوم نے جن بیویوں کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہو ،اور انہوں نے معاف بھی نہ کیا ہو تو وہ سائل کے والدِ مرحوم کےذمہ قرض ہے ،جو کہ اب تقسیمِ ترکہ میں سب سے پہلے بیوؤاں میں سے جو زندہ ہیں ،ان کو ان کا مقرّر کردہ حق ِ مہر ادا کرنا لازم ہے ، اور جس کا انتقال ہو چکا ہے، اس کا حقِ مہر اس کا ترکہ کہلائیگا،جواس کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا،جبکہ سائل کے والدکی تیسری بیوی کی سابقہ شوہر سےجو اولاد ہے ،وہ سائل کے والد مرحوم کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہو گی ،اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا، چاندی،زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہو،یا بیوؤاں کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کونو(9)حصے، ہر بیٹے کوچودہ (14) حصے ، جبکہ ہر بیٹی کو سات(7) حصےدیے جائیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتح القدير للكمال ابن الهمام قال: (وإذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، وإن لم يكن سمى له مهرًا فلا شيء لورثتها عند أبي حنيفة. و قالا : لورثتها المهر في الوجهين) معناه المسمى في الوجه الأول و مهر المثل في الوجه الثاني، أما الأول؛ فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته، إلا إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط نصيبه من ذلك. و أما الثاني فوجه قولهما أن مهر المثل صار دينا في ذمته كالمسمى فلا يسقط بالموت كما إذا مات أحدهما. ولأبي حنيفة أن موتهما يدل على انقراض أقرانهما فبمهر من يقدر القاضي مهر المثل(قوله: على ما نبينه) يعني في المسألة التي تليها من غير فصل، و هي ما إذا مات الزوجان و قد سمى لها مهرا ثبت ذلك بالبينة أو بتصادق الورثة فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، هذا إذا علم أن الزوج مات أولا أو علم أنهما ماتا معا أو لم تعلم الأولية؛ لأن المهر كان معلوم الثبوت، فلما لم يتيقن بسقوط شيء منه بموت المرأة أولا لا يسقط، وأما إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط منه نصيب الزوج؛ لأنه ورث دينا على نفسه.‘‘ (3/ 378)۔
و في البحر الرائق:لو جهز بنته ثم ادعى أن ما دفعه لها عارية وقالت تمليكا أو قال الزوج ذلك بعد موتها ليرث منه وقال الأب عارية ففي فتح القدير والتجنيس والذخيرة والمختار للفتوى أن القول للزوج ولها إذا كان العرف مستمرا أن الأب يدفع مثله جهازا لا عارية كما في ديارنا وإن كان مشتركا فالقول قول الأب وقال قاضي خان وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل إن كان الأب من الأشراف والكرام لا يقبل قوله إنه عارية وإن كان الأب ممن لا يجهز البنات بمثل ذلك قبل قوله. اهـ. الخ(كتاب النكاح،باب المهر،3،200)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83276کی تصدیق کریں
0     316
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات