احکام وراثت

اکٹھے رہنے والے بھائیوں میں کمانے والے بھائی کی کمائی میں دیگر کی شرکت کا حکم

فتوی نمبر :
83054
| تاریخ :
2025-05-26
معاملات / ترکات / احکام وراثت

اکٹھے رہنے والے بھائیوں میں کمانے والے بھائی کی کمائی میں دیگر کی شرکت کا حکم

پانچ بھائی تھے،سب سے بڑا بھائی مزدوری کے لیے نکلا، جب کہ اُس وقت باقی چاروں بھائی عمر میں چھوٹے تھے،پھر دوسرا بھائی جب بڑا ہوا تو اس نے شہر میں اسکول کے ساتھ ساتھ بڑے بھائی کی دکان کو بہت عرصہ سنبھالا ہے ،اور گھر کو بھی سنبھالتا تھا ،یعنی بڑا بھائی تسلی سے سفر پرجاتا تھا ،بڑے بھائی کی شادی کے بعد اُس نے اپنے والد صاحب کو کام کاج سے روک کر گھر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا، حالانکہ وہ خود کام کرنے کی مکمل استطاعت رکھتا تھا،اس کے بعد والد صاحب گھر پر بیٹھ کر کھیتی باڑی سنبھالتا تھا ،کھیتوں سے اُن کے بیوی بچے اور وہ بذات خود مستفید ہو رہے تھے ۔اسی طرح تیسرا بھائی گاؤں میں پا نچ سال کی عمر سے لیکر چودَہ سال کی عمر تک گھر کی ذمہ داری سنبھالتا تھا، یعنی وہ کھیتی باڑی کرتا، گائے کو چارہ ڈالتا اور دودھ دوہتا، اُسی دودھ،گھی وغیرہ سے بڑے بھائی کے بیوی بچے بھی استفادہ کرتے تھے، اور کھیتی کے نفع میں سے وہ بھی مستفید ہوتے گندم وغیرہ،اور یہ کہ وہ گاؤں کےمقامی روایات اور پشتون ثقافت کے مطابق خوشی غمی میں شریک ہوتا تھا ،اسی تیسرے بھائی کا یہ بھی معمول تھا کہ وہ بڑے بھائی کی بیویوں ،بچوں کوجب وہ بیمار ہوتیں وغیرہ، شہر لے جایا کرتاتھا۔ پھر اسکے بعد اس بڑے بھائی نے تیسرے بھائی کو پرفیوم کی دکان پر پارٹنر شپ کے بطور بٹھایا، اور اسکے بعد کچھ بھی پیسے نہیں ملے، اُن کو اس پارٹنر شپ کے ، مزید یہ کہ دوسرے اور تیسرے بھائی کی شادی اُسی بڑے بھائی نے اپنے خرچ پر کروائی تھی،ان حالات پربڑے بھائی نے دوسرےبھائی کو کئی باراقرارکیا، زبان دے کر تسلی دے کر کہ یہ سب کُچھ آپ کا ہے، یعنی جو میں کماتا ہوں ،اس میں سب برابر حِصہ دار ہیں ،چوتھا اور پانچواں بھائی ابھی کم عمر تھے، اور ان میں پانچواں بھائی معذور تھا۔گاؤں کا رائج دستور یہ ہے کہ اگر خاندان کے دو بھائیوں میں سے ایک بھائی روزگار کے لیے باہر جائے ،اور دوسرا بھائی گھر کی ذمہ داری سنبھالے، تو پھر مقامی روایت اور پشتون ثقافت کے مطابق، بڑے بھائی کی کمائی جتنی بھی ہو، وہ دوسرے بھائی کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہے،یعنی اگرچہ دوسرا بھائی مزدوری نہ بھی کرتا ہو، تاہم چونکہ وہ گھر کے امور، کھیتی باڑی یا دیگر خاندانی ذمہ داریوں میں مصروف ہوتا ہے، اس لیے اُسے بھی اُس کمائی میں برابر کا حق دار سمجھا جاتا ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ گاؤں میں رائج اس رسم و رواج سے آج تک کسی نے انکار نہیں کیا، نہ ہی کوئی اس سے پیچھے ہٹا۔ مگر اب گاؤں میں صرف ایک بڑے بھائی نے اس روایت کی مخالفت کی، اور اس سے انکار کر دیا، حالانکہ اس رواج سے انکار کرنا وہاں ایک ناپسندیدہ اور قابلِ ملامت عمل سمجھا جاتا ہے۔اُس بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ جو کچھ میں نے کمایا ہے، وہ صرف میرا ہے، میری کمائی میں میرے بھائیوں کا کوئی حق نہیں، اور نہ ہی میرے ماں باپ یا کوئی اور انہیں کچھ دینے کا اختیار رکھتا ہے،حالانکہ اُس وقت والد صاحب نے بھی اسے کہا تھا کہ اپنے بھائیوں کو حصہ دے دو، لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہا اور صاف کہہ دیا کہ میں انہیں کچھ نہیں دوں گا۔اس ساری صورتِ حال کے دوران باقی چاروں بھائیوں نے نہ تو کسی عالم یا مفتی سے رجوع کیا، اور نہ ہی بڑے بھائی کی دل آزاری کے خوف سے کوئی لب کشائی کی، شاید وہ اپنی سادگی یا کم فہمی کے باعث یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اُن کا بڑے بھائی کی کمائی میں کوئی حق نہیں ہے، اور وہ اس مال میں مستحق نہیں۔
اب والدین اس دنیا میں نہیں رہے،کیا حُکم ہے ؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ ہر شخص اپنے مال، اپنی کمائی اور اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے،اسلام نے ہر عاقل و بالغ شخص کو اپنے مال میں مکمل تصرف کا اختیار دیا ہےکہ وہ جس طرح چاہے، جائز خرچ کرے، جسے چاہے دے، جسے چاہے نہ دے،اس کے مال میں کسی دوسرے شخص کا حقِ ملکیت کا دعویٰ کرنا درست نہیں، جب تک کہ اس نے خود کسی کوباقاعدہ طور پر شریک نہ بنایا ہو ،یا اس کی کمائی میں کسی دوسرے کی رقم شامل نہ ہو۔
لہذا سائل کے گاؤں کا جو رسم ورواج ہے کہ باہر کمائی کرنے والا بھائی اپنی کمائی سب بھائیوں میں برابر تقسیم کرے گا ، یہ رواج محض ایک عرفی اور ثقافتی دستور ہے،شریعت میں عرف اس وقت معتبر ہوتا ہے ،جب کہ وہ شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو، لیکن شرعاً کسی عرف کی وجہ سے خودبخود ملکیت منتقل نہیں ہوجاتی، جب تک کمائی کرنے والا بھائی اپنی کمائی میں کسی دوسرے بھائی کومعاہدے کی صورت میں اپنی کمائی کا مستحق نہ بنادے،لہٰذااگرچہ گاؤں میں یہ رواج تھا،لوگوں نے اسے ناپسندیدہ سمجھا کہ کوئی اس سے پیچھے ہٹے،اور ماضی میں سب بھائی اسے نبھاتے رہے،لیکن شرعی طور پر یہ رواج کسی شخص کی ذاتی کمائی کو دوسروں کا حقدار نہیں بناتا،لہذابیان کردہ گاؤں کے رسم ورواج کا شرعی تجزیہ یہ ہے کہ سائل کے بڑے بھائی کا کمائی کے لیے باہر نکلنا،دوسرے اور تیسرے بھائی کا گھر، کھیتی باڑی اور خاندان سنبھالنا، والدین کی خدمت کرنا، بڑے بھائی کے بچوں کی دیکھ بھال کرنا، بیماروں کو شہر لے کر جانا، یہ سب خدمتیں خاندانی تعاون اور اخلاقی طور پر بہت بڑی نیکی ہیں، لیکن شریعت میں ان خدمات کے بدلے خودبخود کسی کی کمائی میں ملکیت قائم نہیں ہوجاتی،اورسائل کے بڑے بھائی نے جودوسرے بھائی کی شادی کروائی،تیسرے بھائی کو اپنی دکان میں بٹھایا،اور کئی مواقع پر یہ زبان بھی دی کہ “میری کمائی میں سب برابر کے شریک ہیں” لیکن اگر یہ زبانی باتیں بطور وعدہ تھیں، نہ کہ کوئی شرعی طور پر معتبر ہبہ (تحفہ) یا شراکت کا معائدہ ،توایساوعدہ ملکیت ثابت نہیں کرتا، لہذابڑے بھائی نے جو کچھ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ مالی تعاون کیا ہے،ان کی مختلف مالی مدد کی،یہ سب کچھ تبرّع (خیر خواہی، مدد، احسان) تھا، اس پر وہ عنداللہ اجر کا مستحق ہوگا،لیکن اس سے بھائیوں کے لیے مستقبل میں مستقل حقوق یا ملکیت قائم نہیں ہوتی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بڑے بھائی نے اپنی ذاتی محنت و کمائی سے جو ملکیت بنائی ہے، یا جو کچھ اپنے لئےخریدا ہے ، اس میں اگر دیگر بھائیوں کی ،یا والدین کی رقم شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کا بڑا بھائی ان سب اشیاء میں تن تنہا مالک ہوگا ، سائل سمیت اس کے دیگر بھائیوں یا بہنوں کا شرعاً اس میں کوئی حصہ نہیں، اور نہ ہی ان کو مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر سائل کا بڑا بھائی اپنے کسی بھائی بہن کو اپنی جائیداد میں سے بخوشی کچھ دینا چاہے، تو اسے مکمل اختیار حاصل ہے ، البتہ ایسا کرنا اس پر لازم نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مجلة الاحکام العدلیة : کل یتصرف فی ملکہ کیفما شاء ، لکن اذا تعلق حق الغیر بہ فیمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الاستقلال اھ (ص/230)۔
و فی الشامیة: (قوله: و ما حصله أحدهما) أي بدون عمل من الآخر(الیٰ قولہ) مطلب:اجتمعا في دار واحدة و اكتسبا و لا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج و تكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها اھ (325/4)۔
وفی بدائع الصنائع:[فصل في بيان حكم الملك والحق الثابت في المحل](فصل) :وأما بيان حكم الملك والحق الثابت في المحل فنقول وبالله التوفيق حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه وإن كان يتضرر به إلا إذا تعلق به حق الغير فيمنع عن التصرف من غير رضا صاحب الحق وغير المالك لا يكون له التصرف في ملكه من غير إذنه ورضاه إلا لضرورة وكذلك حكم الحق الثابت في المحل عرف هذا فنقول للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء سواء كان تصرفا يتعدى ضرره إلى غيره أو لا يتعدى فله أن يبني في ملكه مرحاضا أو حماما أو رحى أو تنورا وله أن يقعد في بنائه حدادا أو قصارا وله أن يحفر في ملكه بئرا أو بالوعة أو ديماسا وإن كان يهن من ذلك البناء ويتأذى به جاره اھ (264/6)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83054کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات