شیرزمان والد اکبرزمان کوٹ عادل بنوں ،ہم چھ بھائی ہیں ،تین مزدور اور تین سرکاری نوکر ہیں، ہم جو تین مزدور ہیں ہم نے دن رات محنت کرکے ایک بارہ مرلہ کا پلاٹ خریدا ،اپنے والد کے نام لکھا اور اس پلاٹ پر گھر بھی تعمیر کیا،جبکہ جو ہمارے چھوٹے تین بھائی تھے، وہ اس وقت سکول میں پڑھ رہے تھے، اور ایک روپیہ کی شرکت بھی نہیں کی تھی،پڑھنے کے بعد وہ سرکاری نوکر بنے اور اب ریٹائر ہو رہےہیں،اب وہ کہتے ہیں کہ گھر میں ہمارا حصہ بنتا ہے، کیونکہ یہ ہمارے والد کے نام پر ہے اور پنشن میں آپ کا کوئی حق نہیں،محترم ! شریعت کے مطابق ہمیں بتادیں کہ اگر ہم ان کو گھر میں حصہ دیں، تو پنشن میں ان کے ساتھ ہمارا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃًمذکور تین بھائیوں نے اپنی مشترکہ محنت اور آمدنی سے مذکور بارہ مرلہ پلاٹ خریدا اور اس پر مکان تعمیر کیاہو،اوروالدکی اس مکان کی خریداری یاتعمیرمیں کسی قسم کی شرکت داری نہ ہو اوران بھائیوں نے صرف عرفی طور پر کاغذات میں پلاٹ والد کے نام کر دیاہو، باقاعدہ طورپرہبہ کرکے والد کو مالکانہ قبضہ اورتصرف کا اختیار نہ دیاہو، تو شرعاً یہ جائیداد والد کی ملکیت شمار نہیں ہوگی، بلکہ بدستور انہی تین بھائیوں کی ملکیت رہے گی ۔ اس بنا پر جن تین بھائیوں نے نہ پلاٹ کی خریداری میں حصہ لیا اور نہ تعمیر میں مالی شرکت کی، ان کا اس مکان میں کسی قسم کا شرعی حق ثابت نہیں ہوتا۔
جبکہ پنشن حکومت کی طرف سےملازمت کی مدت ختم ہونے پر ملازم کوملنے والا ایک حق ہوتا ہے،میراث نہیں لہذا پنشن اسی ملازم یااس کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء میں سے جس کو حکومت اپنے ضابطے کےمطابق نامزد کرے،اس کاحق ہوتاہے۔ چنانچہ سرکاری نوکری کرنے والے بھائیوں کوملنے والی پنشن پر صرف ان کاذاتی حق ہے،دیگرمزدوری کرنےوالے بھائیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں بنتا،اس لیےسرکاری نوکری کرنے والےاورمزدوری کرنے والے بھائیوں میں سے ہرایک کودوسرے کی ملکیت و حق میں حصہ داری کامطالبہ کرنے سے احترازلاز م ہے۔
کما فی الدر المختار : ( و ) حکمھا ( انھا لا تبطل بالشروط الفاسدۃ ) ( الی قولہ ) بخلاف جعلتہ باسمک فانہ لیس بھبۃ الخ
و فیہ ایضاً : ( قوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة."الخ کتاب الھبۃ، ج: 5 ، ص 689، ط : سعید )۔
وفیہ ایضاً : ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) و الاصل ان الموھوب إن مشغولا بملک الواھب منع تمامھا و ان شاغلا لا الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ص 690، ط : ایچ ایم سعید)۔
وفی العقود الدریۃ: (سئل) في ابن كبير له عيال وكسب مات أبوه عنه وعن ورثة يدعون أن ما حصله من كسبه مخلف عن أبيهم ويريدون إدخاله في التركة فهل حيث كان له كسب مستقل يختص بما أنشأه من كسب وليس للورثة مقاسمته في ذلك ولا إدخاله في التركة؟(الجواب) : نعم الخ (کتاب الدعوی،ج 2، ص 19ط: ماجدیہ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2