ہم چھ بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والد صاحب کی وفات 2005 میں ہوئی۔ دورانِ سروس انہوں نے جو بھی زمین خریدتے رہے وہ وقتا فوقتا بھائیوں کے نام رجسٹری کرتے رہے۔ اس وقت ہم سب چھوٹے تھے۔ تمام جائیداد والد صاحب نے اپنی کما ئی سے خریدی۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل، سائل کے نام کی زمین انہوں نے فروخت کر دی کیونکہ اس وقت میں چھوٹا تھا۔ اسی وقت انہوں نے مزید زمین خریدی جو کہ انہوں نے والدہ صاحبہ کے نام کر دی۔ ابھی کچھ عرصہ قبل والدہ نے وہ زمین بھی دوسرے چھوٹے بھائی کے نام کر دی۔ اب میرے نام پر کوئی زمین نہیں ہے جبکہ باقی تمام 5 بھائیوں کے نام زمین موجود ہے۔ وفات کے وقت والد صاحب کے نام کوئی جائیداد نہیں تھی۔ بہنوں کے نام بھی کوئی زمین نہیں ہے۔
سوال یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا یہ زمین بھائیوں کی ملکیت ہو گی یا کہ وراثت ہوگی؟ اگر ملکیت ہے تو پھر ایک بھائی (سائل) کے نام تو کوئی زمین نہیں ہے۔ تو کیا اس صورت حال میں والد صاحب نے ٹھیک کیا یا نہیں۔ اور اگر وراثت ہی ہے ساری. تو پھر اس کی تقسیم کیسے ہوگی۔
صورت مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم نے یہ زمینیں خریدنے کے بعد اسے فقط قانونی دستاویزات میں بیٹوں کے نام کی ہوں ، اپنے بیٹوں اور بیوی کو ان زمینوں کا مالک بنانا مقصود نہ ہو جیسا کہ سائل کے نام کردہ زمین فروخت کرنے سے معلوم ہو رہا ہے، تو فقط قانون دستاویزات میں نام کرنے سے سائل کے بھائی اور والدہ ان زمینوں کے مالک نہیں بنے ،بلکہ یہ زمین شرعا والد صاحب ہی کی ملکیت رہی جو اب ان کے انتقال کے بعد ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل ان الموهوب ان مشغولا بملك الواهب منع تمامها، و ان شاغلا لا الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت و لو كانت فی مرض الموت للاجنبی کما سبق فى كتاب الوقف کذا فی الهامش (قوله بالقبض الکامل) و كل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية الخ (كتاب الهبة، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
و فی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له الا بالقبض هو المختار، هكذا فی الفصول العمادية الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 378 ، ط: ماجدیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0