احکام وراثت

مختلف حکومتی فنڈز میں ترکہ کی تقسیم کا حکم

فتوی نمبر :
82889
| تاریخ :
2025-05-21
معاملات / ترکات / احکام وراثت

مختلف حکومتی فنڈز میں ترکہ کی تقسیم کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !جناب مفتی صاحب قرآن و سنت کی روشنی میں ذیل مسئلہ کے بارے میں راہنمائی فرمائیں۔ ایک آدمی محکمہ تعلیم میں ملازم تھا، اور دوران ملازمت وفات پاچکا ہے ۔ مرحوم کی ایک بیوی اُس کی حین و حیات میں وفات پاچکی ہے جس سے تین بیٹے اور چار بیٹیاں زندہ موجود ہیں۔ متوفیٰ نے دوسری شادی بھی کی تھی اور دوسری بیوی زندہ ہے، تاہم دوسری بیوی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ متوفی کے مختلف فنڈز بشکل فیملی پنشن مثلاََ گریجوٹی، گروپ انشورنس ، فائننشل اسسٹنس ، بینولنٹ فنڈ، جی ۔پی فنڈ ، ماہانہ پنشن وغیرہ اُس کی دوسری بیوی کے اکاونٹ میں جمع شدہ ہیں۔متوفی صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھتا تھا اور خیبر پختونخواہ کے پنشن رولز 2021 کے مطابق متوفی کا گریجوٹی وغیرہ اور ماہانہ پنشن کے حقداران اُس کے 21 سال تک لڑکے ، غیر شادہ شدہ بیٹیاں اور بیوہ ہیں اور جب لڑکوں کی عمریں 21 سال سے زیادہ ہوجائے اور لڑکیوں کی جب شادی ہوجائے تو وہ گریجوٹی اور پنشن کے حقدار نہیں ہونگے ۔ متوفی کے بیٹوں میں سے دو لڑکوں کی عمریں 21 سال سے کم ہیں جبکہ ایک بیٹے کی عمر 21 سال سے زیادہ ہے ۔ اسی طرح لڑکیوں میں دو لڑکیاں شادہ شدہ ہیں جبکہ دو لڑکیاں غیر شادہ شدہ ہیں، غیر شادہ شدہ لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح ہوچکا ہے تاہم رخصتی تاحال نہیں ہوئی ہے ۔ پوچھنا اب یہ ہے کہ متوفی کے مذکورہ بالا رقومات اور ماہانہ پنشن جو کہ اُس کی زندہ بیوی کے اکاونٹ میں جمع ہے کس طرح تقسیم ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے انتقال کے بعدگورنمنٹ کی طرف سے گریجوٹی، گروپ انشورنس ، فائننشل اسسٹنس ، بینولنٹ فنڈ، جی ۔پی فنڈ ، ماہانہ پنشن وغیرہ کی مد میں جو رقوم مرحوم کی بیوہ کے اکاؤنٹ میں ہیں ان کا حکم درجِ ذیل ہے :
جی پی فنڈ بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے، اور اس کی دو صورتیں ہیں:
جبری کٹوتی : اس میں ملازم کی تنخواہ سے اسکی اجازت و رضامندی کے بغیر ہر ماہ کچھ مخصوص رقم کاٹی جاتی ہے۔
اختیاری کٹوتی: اس میں ملازم اپنے اختیار سے اپنی تنخواہ سے کٹوتی کرواتا ہے اور اگر ملازم اس کٹوتی کو منع کرے تو اسکی تنخواہ سے کٹوتی نہیں کی جاتی۔
چونکہ جی پی فنڈ خواہ جبری ہو یا اختیاری ، یہ ادارے کی طرف سے تبرع نہیں ہوتا ، بلکہ ملازم کی تنخواہ کا ہی حصہ ہوتا ہے اس لئے اگر ملازم دورانِ ملازمت انتقال کرجاتا ہے تو جی پی فنڈ کی مد میں ملنے والی رقم اسکا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم کو ملنے والا جی پی فنڈ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، جو دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائیگا۔ البتہ اگر مرحوم کی تنخواہ سے جی پی فنڈ کی مد میں رقم اس کے اختیار سے کاٹی جاتی تھی تو اب بہتر اور افضل یہ ہے کہ مرحوم کی تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم اور ادارے کی طرف سے ملائی جانے والی رقم کے علاوہ تیسری سودی رقم وصول نہ کی جائے ، اور اگر وصول کی گئی ہو تو اسے فقراء اور مساکین کو دیدی جائے ۔
گروپ انشورنس:
گروپ انشورنس کی مد میں جمع ہونے والی رقم بھی بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے اور جی پی فنڈ کی طرح اسکی بھی دو صورتیں ہیں:
گروپ انشورنس جبری : اس میں ملازم سے اسکی رضامندی اور اختیار کے بغیر اسکی تنخواہ میں سے کچھ رقم کاٹی جاتی ہے۔ گروپ انشورنس کی جبری پالیسی کا حصہ بن جانے کی صورت میں اصل رقم مع اضافی پریمئم لینا شرعاً جائز ہے
گروپ انشورنس اختیاری: اس میں ملازم کو پالیسی لینے پر مجبور نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ ملازم اپنے اختیار سے اسکا حصہ بن جاتا ہے ،اورچونکہ گروپ انشورنس بھی باقی انشورنس کی طرح سود ، قمار، یا غرر پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے ابتدائی طور پر اس پالیسی کا حصہ بننا شرعاً جائز نہیں ۔ البتہ اگر کوئی شخص گروپ انشورنس کا حصہ بنے تو ایسی صورت میں اگر یہ انشورنس جبری ہو اور مرحوم ملازم کے پسماندگان انشورنس کمپنی کے بجائے حکومتی ادارے سے ہی گروپ انشورنس کی مد میں رقم وصول کررہے ہوں تو اس رقم کے وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن اگر یہ انشورنس اختیاری ہو تو ایسی صورت میں مرحوم ملازم کے پسماندگان کیلئے محکمہ سے صرف اتنی رقم وصول کرنی چاہیئے جو اسکی تنخواہ سے کاٹی گئی ہو، بہر دو صورت گروپ انشورنس کی مد میں ملنے والی رقم بھی مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اسکے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کی جائیگی۔
گریجویٹی فنڈ اور ماہانہ پیشن
تاہم گریجویٹی اور ماہانہ پیشن کے نام سے جو رقم ملی ہے وہ مرحوم کا ترکہ نہیں بلکہ یہ ادارہ کی طرف سے مرحوم کے زیر کفالت افراد کے ساتھ تعاون اور تبرع ہےچنانچہ سائل کے ذکر کردہ تفصیل کے مطابق چونکہ یہ رقم خیبر پختونخواہ کے قانون کے تحت مرحوم کی زندہ بیوہ اور 21 سال سے کم عمر والے بیٹوں اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کا حق ہے ، اس لئے مرحوم کی جو اولاد اس ضابطہ کے تحت آتی ہو یہ رقم ان کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم کرنا لازم ہوگا۔
بینولینٹ اور فائننشل اسسٹنس
البتہ بینولینٹ اور فائننشنل اسٹنٹ کے فنڈ میں ملنے والی رقم ادارہ کی طرف سے مرحوم کے زیر کفالت افراد کو بطور امداد دی جاتی ہے، ملازم اپنی زندگی میں اس کا مطالبہ نہیں کرسکتا ،لہذامذکور فنڈ ادارے کی طرف سے جس کو ملے اس کی ملکیت شمار ہوگی ،مرحوم کے ترکہ میں شمار ہوکر تمام ورثاء میں تقسیم نہیں ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا مہر واجب الاداہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائزوصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل اسی (80) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے بیوہ کو دس (10) حصے، اور تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) حصے ، اور چاروں بیٹیو ں میں سے ہر ایک کو سات (7) حصے دیے جائیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني)الخ۔
وفی الشامیۃ تحت (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية الخ۔ ( کتاب الفرائض، ج: ص: 759، ط: سعید)۔
وفی البحر: (قوله والأجرة لا تملك بالعقد) لأن العقد ينعقد شيئا فشيئا على حسب حدوث المنفعة على ما بينا والعقد معاوضة( إلی قولہ) قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها الخ ( کتاب الإجارۃ، ج، 7، ص: 300، ط: المکتبہ الماجدیۃ)۔
وفی الھندیۃ: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط الخ۔ (الباب الثانی متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره، کتاب الإجارۃ، ج: 4، ص: 413، ط: ماجدیہ)۔
و فی الشا میۃ تحت (قولہ كما بسطه الزيلعي) حيث قال لأنه كالمغصوب(إلی قولہ) وعلى هذا قالوا ‌لو ‌مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه الخ۔ (فصل في البيع، کتاب الحضر و الإباحۃ، ج: 6، ص: 485، ط: سعید)۔
وفیھا أیضاً تحت (قولہ الا أن یصطلحا ) ای الوالدان فإن المیراث (الی قولہ) بیانہ ان شرط الإرث وجود الوارث عند موت المورث الخ۔ ( کتاب الفرائض، ج:6، ص:769، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82889کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 4
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات