کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے چچا کا انتقال ہوا ، وفات سے قبل تقریباً چار مہینے ہسپتال میں رہے، اس دوران سارے اخراجات میں نے اپنی طرف سے ذاتی رقم خرچ کی جو کچھ میں نے خرچ کیا ، تقریباً ایک لاکھ دس ہزار روپے میں نے اپنی ذاتی رقم خرچ کی اور تقریباً چار مہینے میری ٹیکسی ان کی خدمت میں ہونے کی وجہ سےانہیں کے لئے مصروف رہے، اور میں نے گاڑی مزدوری کے لئے نہیں نکالی، تقریباً ایک ہزار روپے روزانہ کے حساب سے چار ماہ کی جو رقم ہے ان سب کا کیا حکم ہے ؟ کیا یہ سب میں ان کے ترکہ سے وصول کر سکتا ہوں؟ براہِ کرم حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنے چچا پر جو اخراجات کیے تھے یا ٹیکسی ان کو لانے لیجانے میں لگائی تھی، اگر چچا یا اس کی بالغ اولاد میں سے کسی سے یہ طے کیا تھا کہ جو اخراجات میں کر رہا ہوں ، بطورِ قرض کر رہا ہوں اور ٹیکسی کرایہ بھی طے کر کے ان کو بتا دیا تھا، تو اب اس کا مطالبہ کرنا یا مرحوم کے ترکہ سے وصول کرنا درست ہے ، ورنہ یہ سب سائل کی طرف سے تبرع اور احسان ہے ۔ جس کا مطالبہ اب درست نہیں اِلا ً ا یہ کہ سائل کے چچا زاد بھائی ان کی خدمات کے پیش نظر ان کے ساتھ تعاون کریں تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
کمافی الھندیۃ: وعاریۃ کل شیئ یجوز قرضہ قرض اھ(3/207)۔
وفیہ ایضاً: واذا فسد العقد لجھالۃ المسمیٰ او لانعدام المسمیٰ یجب اجر المثل بالغاً مابلغ اھ(4/444)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2