السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تھی، جس سے تین بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی، پھر اس کے بعد میری بیوی کی وفات ہوگئی ،پھر دو سال کے بعد دوسری شادی کی جس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی ہے، اب میری دوسری بیوی میری حیات کے اندر ہی میراث کے تقسیم کرنے کی خواہاں ہے، اور اس کے نہ کرنے پر وہ مجھے مختلف قسم کی دھمکیاں دیتی ہے، تو آیا مجھ پر حیات میں بھی جائیداد تقسیم کرنا لازم ہے کہ یا نہیں؟ واضح ہو کہ میری ایک بہن بھی موجود ہے، تو اب ان ورثاء کے مطابق جائیداد کس طرح تقسیم ہوگی؟ جواب بالصواب سے مطلع فرمائیں۔ میرے دو مکان ہیں، ایک والدہ ماجدہ صاحبہ کا اور دوسرا والد صاحب کا اور والدہ صاحبہ نے اپنا مکان میرے نام کر دیا ہے۔
محض نام کر دینے سے کوئی شخص کسی چیز کا مالک نہیں بن جاتا، جب تک اس پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی نہ دیا جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ مرحومہ نے جو مکان سائل کے نام کیا تھا، اگر محض کاغذوں میں کیا تھا، تو اس صورت میں یہ ہبہ شرعاً درست نہیں ہوا ،بلکہ یہ مکان اب تک والدہ کی ملکیت شمار ہوگا، اور ان کے انتقال کے بعد تمام ورثاء میں سے فقط اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہو گا ،اب اگر والد مرحوم اور والدہ مرحومہ کے ورثاء میں سے فقط دو ہی وارث ہوں یعنی سائل اور اس کی بہن اس کے علاوہ کوئی اور وارث موجود نہ ہو ،تو پھر یہ دونوں ہی اس کل ترکہ کے حقدار ہیں، اور اس کل ترکہ میں حقوقِ متقدمہ علی المیراث کے بعد کل تین حصے کریں ،پھر ان میں سے دو حصے سائل کے ہیں اور ایک حصہ اس کی بہن کا ہے ،اس کے بعد واضح ہو کہ اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل ہر شخص اپنی جائیداد وغیرہ کا تنہا مالک ہوتا ہے، کوئی دوسرا اس کا حقدار نہیں ،اور وہ خود اپنی مرضی سے ہر قسم کے تصرفات کا حق رکھتا ہے،زوجہ یا کسی دوسرے وارث کا اس سے تقسیمِ جائیداد کا مطالبہ کرنا یا اسے تقسیم پر مجبور کرنا شرعا جائز نہیں، اس لئے سائل کی بیوی اپنے ناجائز اور غلط دعویٰ اور شوہر کو ستانے اور پریشان کرنے کی وجہ سے سخت گناہگار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے ناجائز دعویٰ سے احتراز کرے،اور اپنے شوہر کو بلاوجہ تنگ کرنے پر اس کی معافی بھی مانگے، تاہم اگر سائل اپنی مرضی سے بغیر کسی جبر و اکراہ کے اگر اپنا مال و جائیداد اپنی زندگی میں ہی تقسیم کرنا چاہتا ہو تو اس اُسے اختیار ہے، اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے کچھ بچا کر رکھ لے ،اور باقی تمام جائیداد اپنی اور اولاد، بیوی اور بہن کے درمیان تقسیم کر دے ،اور ہر ایک کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیں، تاکہ یہ شرعاً بھی درست ہو سکے ، اگر کسی بیٹے یا بیٹی وغیرہ کو اس کی محتاجگی ، خدمت گزاری اور دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کی بھی گنجائش ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے، اب اگر وہ ان سب کو دینا چاہے تو ہر ایک کو برابر دینا بہتر اور مستحب ہے ،اور اس صورت میں پہلے تو کل ترکہ کے تین حصے کر کے ایک حصہ بطورِ میراث کے اپنی بہن کو دیدے ،اس کے بعد بقیہ دو حصوں کے آٹھ برا بر حصے کر کے ایک حصہ اپنے لئے روک لے ،ایک حصہ اپنی بہن کو دے، ایک حصہ موجودہ بیوی کو دیدے، ایک حصہ اس کی بیٹی کو، ایک حصہ پہلی بیوی کی بیٹی کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک بیٹے کو دیدے، پھر اولاد کے نابالغ اور ناسمجھ ہونے کی وجہ سے ان کا حصہ بطورِ امانت اپنے پاس بھی رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے۔
ففی الدر المختار: وقال على الفريضة الشرعية قسم على ذكورهم وإناثهم بالسوية هو المختار (4/ 444)۔
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى (5/ 696)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2