کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کو حل فرما دیجیے،عرض ِخدمت یہ ہے کہ میں نے اپنی زرعی زمین فروخت کر دی ہے، جس کی مالیت 2 لاکھ 30 ہزار روپے ہے ، میرے 3 بیٹے اور ایک بیٹی ہے، ایک بیٹا فوت ہو چکا ہے، اور اس کے بچے اور بیوی زندہ ہے، ان کے بارے میں رقم کی تقسیم کس طرح ہوگی، والسلام!
مذکور رقم تنہا سائل کی ہی ملکیت ہے، جس کی تقسیم اس پر شرعاً لازم نہیں، اور نہ ہی اسے کوئی مذکور مال کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے، تاہم اگر وہ مرضی سے بغیر کسی جبر و اکراہ کے زندگی ہی میں اپنا مذکور مال تقسیم کرنا چاہتا ہو تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مذکور رقم کے پانچ حصے کر کے ایک ایک حصہ اپنی زندہ اولاد کو مالک بنا کر دیدے، اور ایک حصہ مرحوم بیٹے کی اولاد پر خرچ کرنے کے لئے اس کی بیوہ کے حوالے کر دے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2