کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والدِ محترم کی ایک ملکیت (پلاٹ) ہے ،اور ان کو فالج پڑ گیا تھا، اور انہوں نے اپنی زندگی میں وہ پلاٹ میری والدہ محترمہ کے نام کر دیا تھا ، اور اب میرے والد اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں، اب وراثت میں ایک بھائی، چھ بہنیں اور والدہ محترمہ ہے، میراث سے متعلق تمام تقسیم کا طریقہ کارکے ساتھ اس سوال کا جواب عنایت فرماکر مشکور ہوں۔جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کے والدِمرحوم نے مذکو ر پلاٹ اپنی بیوی (سائل کی والدہ ) کے فقط نام کروایا تھا، یا مرحوم نے اپنی زندگی میں یہ پلاٹ اسے ہبہ (گفٹ)کرکے اس پر انہیں باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدیاتھا ؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیاجاتا ۔
تاہم اگر سائل کے والدِمرحو م نے مذکور پلاٹ اپنی بیوی(سائل کی والدہ) کے فقط نام کیا ہو،ان کو اس پلاٹ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو تو ایسی صورت میں فقط نام کردینے سے بیوی(سائل کی والدہ) شرعاً مذکور پلاٹ کی مالک نہیں بنی ،بلکہ وہ پلاٹ سائل کے والدِ مرحوم کی حیات تک بدستور اس کی ملکیت رہا ، اور اب ان کے انتقال کرجانے کی صورت میں ان کا ترکہ شمار ہوکر اس کے تمام ورثاء (بیوہ ،بیٹے اور بیٹیوں )کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور پلاٹ سمیت جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا، چاندی،زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہو،یا بیوہ کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہو اور انہوں نے معاف بھی نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل چونسٹھ (64) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کوآٹھ(8)حصے، بیٹے کوچودہ (14) حصے ، جبکہ ہر بیٹی کو سات(7) حصےدیے جائیں ۔
کما فی الدرالمختار:(و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها ،(5/690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2