محترم جناب مفتی صاحب! جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی السلام علیکم! کیا فرتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ والد صاحب سے علیحدہ ہونے کے بعد میں نے ایک عدد مکان خریدا اور اسے اپنے ذاتی خرچ پر تعمیر کیا۔
(۲): ایک عدد جو والد صاحب کی ملکیت تھا، والد صاحب نے مجھے اس کے بنانے کی اجازت دی، والد اور والدہ کی رضامندی سے میں نے اسے اپنے ذاتی خرچہ پر تعمیر کیا، میں نے اس کی قیمت معلوم کی تو مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس کی قیمت مبلغ تیرہ لاکھ روپے (۱۳۰۰۰۰) ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کہ ان میں بہنوں اور بھائی کا بھی حصہ ہوگا یا نہیں؟ جب کہ دونوں کی تعمیر میں نے خود اپنی رقم سے کی ہے۔
نوٹ: مذکور پلاٹ جس پر بندہ نے والدین کی اجازت سے مکان تعمیر کیا، والدین نے با ضابطہ مالکانہ قبضہ نہیں دیا تھا، البتہ سابقہ مکان میں وسعت کم پڑ جانے پر صرف تعمیر کی اجازت دی ،تاکہ رہائش میں سہولت رہے ، جبکہ اس وقت والد صاحب کاروبار سے الگ ہو چکے تھے، اور دو بھائیوں کا الگ الگ سے کاروبار اور کھانا پکانا الگ تھا، اور حسبِ استطاعت ہر بھائی والدین کی خدمت کرتا رہا، مزید یہ کہ مکان کی تعمیر پر جو اخراجات آئے ان کے بارے میں بھی کچھ طے نہیں ہوتا تھا کہ یہ والد صاحب پر قرض ہوگا یا نہیں؟ اور اب بھی والدین الحمد للہ حیات ہیں۔
برتقدیرِ صحتِ سوال سائل کے مذکور اخراجات والدین کے ساتھ تعاون اور اس کی طرف سے ذاتی تبرّع و احسان ہیں، البتہ علیحدگی کے بعد اپنی ذاتی رقم سے الگ طور پر جو مکان تعمیر کیا ہے، وہ محض سائل کا ہی حق ہے، اس میں کسی دوسرے کا اپنی حصہ داری کا دعوی کرنا درست نہیں۔
ففی شرح المجلة: واعلم ان المراد بالقبض الذی تتم بہ الھبة ھو القبض الکامل وھو فی المنقول ما یناسبه و في العقار ما یناسبه اھ (۳/ ۳۴۵) -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2